تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 10
اِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَاَتْبَعَهٗ شِهَابٌ ثَاقِبٌ﴿10﴾
- اِلَّاسوائے
- مَنْجو
- خَطِفَلے بھاگا
- الْخَطْفَةَاچک کر
- فَاَتْبَعَهٗتو اس کے پیچھے لگا
- شِهَابٌ ثَاقِبٌایک انگارا دہکتا ہوا
Translation · Tadabbur-e-Quran
مگر یہ کہ کوئی اچک لے کوئی بات تو ایک دمکتاشعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 10
یعنی قدرت کے اس محکم انتظام کے بعد اس بات کا تو امکان ہے نہیں کہ کوئی شیطان ملاء اعلیٰ تک پہنچ سکے یا ان کی باتیں سن سکے۔ کوئی شریر جن اگر کچھ کرسکتا ہے تو یہ کرسکتا ہے کہ اچکوں کی طرح کوئی بات اچکنے کی کوشش کرے۔ سو اس کے سدِ باب کے لئے بھی یہ انتظام ہے کہ آسمان کی برجیوں سے ایک دہکتا شعلہ اس کا تعاقب کرتا ہے۔
اس تفصیل سے یہ حقیقت واضح ہوئی کہ نہ فرشتوں کو خدا کی خدائی میں کوئی دخل ہے اور نہ جنات کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے کہ وہاں سے وہ غیب کی کوئی خبر معلوم کرسکیں اس وجہ سے جو لوگ فرشتوں کو خدا کی چہیتی بیٹیاں سمجھ کر پوج رہے ہیں وہ بھی احمق اور جو جناب کو علم غیب کا وسیلہ سمجھ کر ان سے تعلق و توصل پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ بھی احمق۔ یہ امریہاں ملحوظ رہے کہ عربوں کے شرک اور ان کی کہانت کی تمام گرم بازاری انہی دو مذکورہ تصورات پر تھی۔ قرآن نے یہاں جنوں اور فرشتوں دونوں کی حقیقت واضح کرکے ان کی ضلالت کے اس سارے کاروبار کو ختم کردیا۔