Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 11

  1. فَاسْتَفْتِهِمْ اَهُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمْ مَّنْ خَلَقْنَا١ؕ اِنَّا خَلَقْنٰهُمْ مِّنْ طِیْنٍ لَّازِبٍ﴿11﴾

    1. فَاسْتَفْتِهِمْپس ان سے پوچھیں
    2. اَهُمْکیا ان
    3. اَشَدُّ خَلْقًازیادہ مشکل پیدا کرنا
    4. اَمْیا
    5. مَّنْجو
    6. خَلَقْنَا ۭہم نے پیدا کیا
    7. اِنَّا خَلَقْنٰهُمْبیشک ہم نے پیدا کیا انہیں
    8. مِّنْسے
    9. طِيْنٍ لَّازِبٍمٹی چپکتی ہوئی
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس ان سے پوچھو کہ کیا ان کے پیدا کرنے کا معاملہ زیادہ سخت ہے یا ان چیزوں کا جو ہم نے پیدا کی ہیں ! ہم نے ان کو تو چپکتی مٹی سے پیدا کیا ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے کا مضمون۔ آیات۔ 11۔ 74 آگے احوال ِ قیامت کی تفصیل ہے اور مقصود اس سے یہ دکھانا ہے کہ جو لوگ اللہ کے سوا دوسری چیزوں کو پرستش کر رہے ہیں قیامت کے دن ان کا اور ان کے معبودں کا کیا حال ہونا ہے۔ شرک کے علم بردار لیڈر اور ان کے پیرو کس طرح ایک دوسرے پر لعنت کریں گے ! اور اہل ایمان، جو تمام مخالفتوں کے علی الرغم توحید اور قیامت کے عقیدے پر جمے رہیں گے، اللہ تعالیٰ ان کو کس فوزِ عظیم سے نوازے گا۔ آیت کی تلاوت فرمائیے۔ ارکان قیامت کی ایک واضح دلیل فاستفتھم اھم اشد خلقاً امر من خلقناً ط انا خلقنھم من طین لازیب (11) احوال قیامت کے باین کے لئے پہلے بطور تمہید اس کے امکان کے سوال کو لیا ہے کہ اگر یہ لوگ تمہایر انذار قیامت کو اس بنا پر جھٹلاتے ہیں کہ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھایا جانا ان کے نزدیک مس بعد ہے تو ان سے پوچھو کہ یہ آسمان و زمین یہ دریا اور پہاڑ یہ سورج اور چاند جو خدا نے پیدا کئے ہیں ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا آدمیوں کو ؟ تو جو خدا یہ عظیم چیزیں عدم سے وجود میں لانے پر قادر ہے وہ انسان جیسی حقیر چیز کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں اجز رہے گاڈ یہی مضمون سورة مومن میں یوں بیان ہوا ہے۔ لخاق السموت والارض اکبر من خلق الناس ولکن اکثر الناس لا یعلمون (57) (آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا لوگوں کو پیدا کرنے سے زیادہ شکل ہے لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے) یہی سوال دوسرے مقام میں یوں اٹھایا ہے : انتم اشد خلقا ام السمآء بنھا النزاعت :27) (کیا تمہارا پیدا کیا جانا زیادہ مشکل ہے یا آسمان کا جس کو بنایا۔) انا خلقنھم من طین لازب، طین لازب چپکنے والی مٹی کو کہتے ہیں مطل یہ ہے کہ ان کو تو ہم نے چپکنے والی مٹی سے بناڈالا۔ ہمیں ان کے بنانے کے لئے کوئی خاص سروسامان فراہم نہیں کرنا پ ڑا تھا کہ دوبارہ اس کو فراہم کرنا ہمارے لئے مشکل ہوجائے۔ جس مٹی سے ہم نے ان کو بنایا کس کی بہت بڑی مقدار ہمارے پاس موجود ہے۔ ہم جب چاہیں گے ان کو پھر بنا دیں گے۔ جب پہلی بار ہمیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو دوبارہ ہمارے لئے یہ کام کیوں مشکل ہوجائے گا ! یہاں ام من خلقنا میں من کے استعمال سے ذہن اس طرف بھی جاتا ہے کہ مقابلہ ملائکہ اور جناب کی خلقت سے کیا جا رہا ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ ان سے پوچھو کہ ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا دوسری مخلوقتا جو ہم نے پیدا کی ہیں (مثلاً جنات اور ملائکہ ان کو پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے۔ ان کو تو ہم نے مٹی سے پیدا کیا ہے اور ملائکہ اور جنوں کو تو نور اور نار سے پیدا کیا ہے تو اگر ہم ان کے پیدا کرنے پر قادر ہوگئے تو ان کو دوبارہ پیدا کرنے سے کیوں قاصر رہ جائیں گے !