Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 101

  1. فَبَشَّرْنٰهُ بِغُلٰمٍ حَلِیْمٍ﴿101﴾

    1. فَبَشَّرْنٰهُپس بشارت دی ہم نے اسے
    2. بِغُلٰمٍایک لڑکا
    3. حَلِيْمٍبردبار
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ہم نے اس کو ایک برد بار فرزند کی بشارت دی
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فبشرنہ بغلام حلیم (101) دعا کی قبولیت اور حضرت اسمعیل کی ولادت کی بشارت یہ دعا اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی اور ان کو ایک فرزند کی ولادت کی خوش خبری دی گئی اس فرزند سے ظاہر ہے کہ حضرت اسماعیل مراد ہیں۔ اس کے بعض وجوہ بالکل واضح ہیں۔ -1 اس کی اول وجہ یہ ہے کہ یہی حضرت ابراہیم کی اس وقت اکلوتی اولاد تھے جس کے لئے انہوں نے دعا فرمائی تھی۔ حضرت اسحاق کے متعلق اس کے محل میں ہم وضاحت کرچکے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ان کے لئے دعا نہیں فرمائی تھی، بلکہ وہ حضرت اسماعیل کی قربانی کے انعام کے طور پر ان کو عطا ہوئے۔ -2 دوسری وجہ یہ ہے کہ اگٓے ان کی قربانی کا ذکر آ رہا ہے اور حضرت ابراہیم نے قربان حضرت اسماعیل کو کیا نہ کہ حضرت اسحاق کو اس واقعہ میں یہود نے جو تحریفات کی ہیں ان کا پردہ استاذ امام ؒ نے رسالہ ذبیح میں پوری طرح چاک کردیا ہے۔ تفصیل کے طالب اس کا مطالعہ فرمائیں۔ -3 تیسری وجہ ی ہے کہ اس فرزند کی صفت یہاں حلیم آئی ہے۔ یہ صفت ان کی اس عزیمت و استقامت کی تعبیر ہے جس کا مظاہرہ انہوں نے باپ کی چھری کے نیچے کیا اور جس کے صلہ میں اللہ تعالیٰ نے ان کو صادق الوعد، صابر اور حلیم کے القاب سے نوازا۔ یہ امر یہاں محلوظ ہے کہ بعینہ یہی صفت حلیم قرآن میں حضرت ابراہیم کے لئے بھی آئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اسماعیل اپنے باپ کی صفات کے سب سے زیادہ نمایاں مظہر تھے۔