تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 103
فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ﴿103﴾
- فَلَمَّآپس جب
- اَسْلَمَادونوں نے حکم (الہی) مان لیا
- وَتَلَّهٗ(باپ نے بیٹے کو) لٹایا
- لِلْجَبِيْنِپیشانی کے بل
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جب دونوں اپنے تائیں اپنے رب کے حوالے کردیا اور ابراہیم نے اس کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فلما اسلما وثلہ للجئین (103)
اصل مرحلہ
اب یہ اصل مرحلہ یعنی قربانی کا بیان ہو رہا ہے، اسلام کے معنی اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردینے کے ہیں۔ یعنی باپ اور بیٹا دونوں امتحان کے لئے آمادہ ہوگئے۔ باپ نے بیٹے کو ذبح کردینے کے لئے چھری نکال لی اور بیٹے نے اپنے آپ کو ذبح کردینے کے لئے حوالے کردیا۔ تلہ للجبین اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل پچھاڑ دیا۔ پیشانی کے بل پچھاڑنے کی توجیہ بعض لوگوں نے یہ کی ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے چاہا کہ ذبح کے وقت بیٹے کا محبوب چہرہ سامنے نہ ہوتا کہ رقت قلب چھری چلانے میں مانع نہ ہو لیکن یہ توجیہ میرے نزدیک صحیح نہیں ہے جو باپ اس طرح اپنے اکلوتے اور محبوب لخت جگر پر چھری چلانے کے لئے آستینیں چڑھا لے گا وہ اس قسم کی تسلیوں کا محتاج نہیں ہوسکتا۔ میرے نزدیک اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے بیٹے کو سجدہ کی حالت میں قربان کرنا چاہا اس وجہ سے پیشانی کے بل پچھاڑا۔ سجدہ کی ہئیت خدا کے قرب کی سب سے زیادہ محبوب ہئیت اسلام میں بھی ہے۔ جیسا کہ ارشاد ہے ”واسجدوا افترب (سجدہ کر اور اپنے رب سے قریب تر ہوجا !) اور اس کی یہ حیثیت قدیم مذاہب میں بھی مسلم رہی ہے۔ یہ امر بھی محلوظ رہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بیت اللہ نہ تو تعمیر ہا تھا اور نہ عبادت کے لئے کوئی متعین قبلہ ہی تھا۔ اگر کوئی متعین قبلہ ہوتا تو ہوسکتا ہے کہ حضرت ابراہیم بھی بیٹے کو قبلہ رخ لٹاتے جس طرح ہم جانوروں کو ذبح کرتے وقت قبلہ رخٹ لٹاتے ہیں۔