Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 104

  1. وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ﴿104﴾

    1. وَنَادَيْنٰهُاور ہم نے اس کو پکارا
    2. اَنْکہ
    3. يّٰٓاِبْرٰهِيْمُاے ابراہیم
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے اس کو آواز دی، اے ابراہیم
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ونا دینہ ان یابراھیم قد صداقت الرئویا انا کذلک فجزی المحسنین (105-104) امتحان میں حضرت ابراہیم ؑ کی فیروز مندی قریب تھا کہ حضرت ابراہیم ؑ کی چھری چل جائے لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو آواز دی کہ اے ابراہیم ! تو نے خواب سچ کر دکھایا اور یہ فیروز مندی جو اس امتحان میں تم نے حاصل کی یہ تمہاری خوب کاری اور تمہارے اخلاص و احسان کا صلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے خوب کار بندوں کو اسی طرح اپنے امتحانوں میں سرفرازی بخشتا ہے۔ قدصداقت الرویا ہم اوپر یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ خواب میں جو کچھ دکھایا جاتا ہے وہ محتاج تاویل تعبیر ہوتا ہے حضرت ابراہیم ؑ کو یہ خواب جو دکھایا گیا اس کی اصل تعبیر یہ تھی کہ وہ اس بٹے کو خدا کی نذر کردیں۔ یہ مقصود نہیں تھا کہ اس کو ووہ فی الواقع ذبح کردیں۔ چناچہ جب وہ بیٹے کو قربان کرنے کے لئے تیار ہوگئے تو خواب کا جو اصل منشاء تھا وہ پورا ہوگیا اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو بشارت دے دی کہ خواب کا مقصد پورا ہوچکا اب مزید کسی اقدام کی ضرورت نہیں ہے۔ جن لوگوں نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا حکم عمل سے پہلے ہی منسوخ کردیا انہوں نے ایک غیر ضروری تکلف کیا ہے۔ صحیح تاویل واضح ہوجانے کے بعد اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کذلک نجزی المحسنین سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ جو لوگ اللہ کے صدق و اخلصا اور اس کے احکام کی تعمیل کے باب میں احسان کی روش اختیار کرتے ہیں، یعنی ان کی کوششیں یہ ہوتی ہے کہ خدا کے ہر حکم کی تعمی اس طرح کریں جس طرح اس کے کرنے کا حق ہے، ان کو اللہ تعالیٰ یہ صلہ دیتا ہے کہ وہ اس کے بڑے بڑے امتحانوں میں شاندار کامیابیاں حاصل کرتے ہیں اور پھر اس کے صلے میں آخرت کی ابدی بادشاہی کی فیروز مندیاں پاتے ہیں۔ برعکس اس کے جن لوگوں کی روش دین کے معاملے میں فرار پسندانہ رہتی ہے وہ آہستہ آہستہ خدا کی آزمائشوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت سے بالکل محروم ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ بالآخر یہ ہوتا ہے کہ آخرت کی کامیابیوں کی راہ ان کے لئے بالکل ہی بند ہوجاتی ہے۔