Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 165

  1. وَّ اِنَّا لَنَحْنُ الصَّآفُّوْنَۚ﴿165﴾

    1. وَّاِنَّااور بیشک ہم
    2. لَنَحْنُالبتہ ہم
    3. الصَّآفُّوْنَصف بستہ ہونے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم تو خدا کے حضور بس صف بستہ رہنے والے ہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وانا لنحن الصآقون وانا لنحن السیحون دوسری بات انہوں نے یہ فرمائی کہ ہم ہر وقت اس کے حضور میں صف بستہ رہین والے اور اس کی تسبیح کرتے رہنے والے ہیں۔ فرشتوں کی صف بستگی کا ذکر اس سورة کی پہلی ہی آیت میں ہوا ہے اور اس کے تحت ہم اس کی وضاحت کرچکے ہیں۔ مستحون سے مقصود وہی چیز ہے جو سورة کے شروع میں تالیت ذکرا کے الفاظ سے بیان ہونی ہے۔ ہمارے نزدیک یہ عرش الٰہی کے اردگرد فرشتوں کی نماز ہے جو عبدیت کا سب سے بڑا مظہر ہے۔ ہاں اس کو ذکر سے تعبیر فرمایا ہے یہاں تسبیح سے اور قرآن میں نماز کی تعبیران دونوں ہی لفظوں سے ہوئی ہے یہ تسبیح میں تنزیہہ کا پہلو غالب ہے یعنی خدا کو ان تمام باتوں سے ارفع و منزہ قرار دینا جو اس کی شان کے منافی ہیں۔ حضرت جبریل نے یہ لفظ استعمال کر کے گویا یہ بات واضح فرمائی کہ خدا کے شرک بننا تو درکنار ہم تو برابر خدا کر ان تمام خلاف شان باتوں سے پاک قرار دینے میں سرگرم رہتے ہیں۔