Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 5

  1. رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا وَ رَبُّ الْمَشَارِقِؕ﴿5﴾

    1. رَبُّپروردگار
    2. السَّمٰوٰتِآسمانوں
    3. وَالْاَرْضِاور زمین
    4. وَمَا بَيْنَهُمَااور جو ان کے درمیان
    5. وَرَبُّاور پروردگار
    6. الْمَشَارِقِمشرقوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہی خداوند ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا اور وہی خداوند ہے سارے اطراف مشرق کا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 5 یہ خبر کے بعد دوسری خبر ہے۔ یعنی وہی اللہ واحد تمام آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی ساری چیزوں کا خداوند ہے اور وہی تمام مشرق و مغرب کا مالک ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس نے اپنی ناپیداکنار مملکت کے دور دراز گوشوں کا انتظام اپنے دوسرے شریکوں کے سپرد کررکھا ہے۔ وہ کسی کی مدد کا محتاج نہیں ہے۔ وہ اپنی کائنات کے ہر گوشے اور کونے کا مالک خود ہے، اور خود ہی اپنے احکام کے تحت اس کا انتظام فرماتا ہے۔ اس کائنات میں فرشتوں کا اگر کوئی دخل ہے تو خدا کے شریک کی حیثیت سے نہیں بلکہ اس کے فرمانبردار سفیروں اور کارندوں کی حیثیت سے ہے۔ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں اپنے رب کے احکام کی تعمیل میں کرتے ہیں۔ ’ رب الشارق ‘ میں ’ مشارق ‘ جمع اپنے اطراف کی وسعت کے اعتبار سے ہے۔ سوہ اعراف میں لفظ ’ اعراف تحت ہم بیان کر آئے ہیں کہ جمع بعض مرتبہ کسی شے کی وسعت اور اس کے طول کو ظاہر کرنے کے لئے بھی آتی ہے۔ قرآن میں ’ مشارق ‘ اور ’ مغارب ‘ کے الفاط اسی اعتبار سے آئے ہیں۔ اسی طرح جہاں مقصود کسی شے کے دونوں کناروں کی طرف اشارہ کرنا ہو وہ ان اس کو بعض اوقات مثنیٰ کی شکل میں لاتے ہیں۔ چناچہ قرآن میں ’ مشرقین ‘ اور ’ مغربین ‘ بھی استعمال ہوئے۔ رب المشارق ‘ کے بعد ’ رب المغارب ‘ بربنائے وضاھت قرینہ خدف ہے۔ اس لئے کہ ’ معارب ‘ ’ مشارق ‘ کے تحت ہیں۔ جب اصل کا ذکر آگیا تو فرع کا ذکر گویا خود بخود ہوگیا۔ بعض جگہ اس کو واضح بھی فرمادیا ہے۔ مثلا : فلا اقسم برب المثارق المغرانب انا لقدرون (المعارج : 40) (پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشارق اور مغارب کے رب کی کہ بیشک ہم قادر ہیں)۔ ’ مشارق ‘ کے خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کرنے کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ دنیا میں مشرکوں نے سب سے زیادہ پرستش سورج کی کی ہے جو مشرق سے طلوع ہوتا ہے۔