Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 6

  1. اِنَّا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِزِیْنَةِ اِ۟لْكَوَاكِبِۙ﴿6﴾

    1. اِنَّا زَيَّنَّابیشک ہم نے مزین کیا
    2. السَّمَآءَ الدُّنْيَاآسمان دنیا
    3. بِزِيْنَةِۨزینت سے
    4. الْكَوَاكِبِستارے
Translation · Tadabbur-e-Quran
بیشک ہم ہی نے سجایا ہے سماء دنیا کو ستاروں کی زینت سے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 6۔ 7 اوپر کی آیت میں ملائکہ کا ذکر ہوا ہے کہ نادانوں نے تو ان کی و خدائی کا درجہ دے رکھا ہے اور ان کے ملاء اعلیٰ تک کا حال یہ ہے کہ وہ برابر اپنے رب کے آگے صفہ بستہ اور اس کی حمدوتسبیح میں سرگرم رہتے ہیں۔ اب آگے کی آیات میں شیاطین جن کا ذکر آرہا ہے کہ نادانوں نے ان کی نسبت یہ گمان کر رکھا ہے کہ ان کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہے اور وہ وہاں سے غیب کی خبریں حاصل کرتے ہیں چناچہ اسی توقع پر ان کی پرستش کی جاتی ہے کہ یہ علم غیب کے حصول کا ذریعہ ہیں۔ حالانکہ ملاء اعلیٰ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہے۔ اگر کوئی شریر جن وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر شہاب ثاقب کی مار پڑتی ہے۔ ’ حفظا ‘ فعل مخدوف کی تاکید ہے۔ یعنی ’ وحفظنھا حفظا ‘ اس وجہ سے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آسمان کو ہم نے شیاطین کی دراندازی سے اچھی طرح محفوظ کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ستارے ایک طرف تو آسمانِ زیریں کی زینت ہیں، دوسری طرف قدرت ان سے یہ کام بھی لیتی ہے کہ جو شیاطین ملاء اعلیٰ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں ان کو انہی ستاروں کے ذریعے سے سرزنش کی جاتی ہے۔ قرآن مجید میں یہ مضمون مختلف اسلوبوں سے بیان ہوا ہے۔ مثلاً ولقد زینا السماء الدنیا بمصابیح وجعلنھا رجوما للشیطین (الملک : 5) (اور ہم نے سماء دنیا کو تاروں سے سجایا ہے اور ان کو شیاطین کے سنگسار کرنے کے لئے بھی بنایا ہے) دوسرے مقام میں ہے : ولقد جعلنا فی السماء بروجا وزینھا للناظرین وحفظنھا من کل شیطن رجیم۔ الا من استرق السمع فاتبعہ شھاب مبین (الحجر : 16۔ 18) (اور ہم نے آسمان میں برج بنائے ہیں اور اس کو دیکھنے والوں کے لئے ستاروں سے مزین کیا ہے اور اس کر ہر شیطان رجیم سے محفوظ کیا ہے اور اگر کوئی چھپ کے ملاء اعلیٰ کی باتیں سننے کی کوشش کرتا ہے تو ایک دمکتا شہاب اس کا تعاقب کرتا ہے)۔