تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 75
Tafseerوَ لَقَدْ نَادٰىنَا نُوْحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِیْبُوْنَ٘ۖ﴿75﴾
- وَلَقَدْ نَادٰىنَااور تحقیق ہمیں پکارا
- نُوْحٌنوح
- فَلَنِعْمَسو ہم البتہ خوب
- الْمُجِيْبُوْنَدعا قبول کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور نوح نے ہم سے فریاد کی پس کیا ہی خوب ہیں ہم فریاد سننے والے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
-4 آگے کا مضمون۔ آیات 148-75
آگے اختصار کے ساتھ حضرت نوح، حضرت ابراہیم حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت موسیٰ ، حضرت ہ اورن، حضرت الیاس، حضرت لوط اور حضرت یونس علیہوم السلام کی سرگزشتیں بیان ہوئی ہیں اور ہر سرگزشت کے آخر میں اس مضمون کی ترجیح ہے کہ اللہ نے اپنے یغمبر کو رحمت و سلامتی سے نوازا، اس کی دعوت کو فروغ بخشا اور اپنے خوب کار بندوں کو اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسی طرح صلہ دیتا ہے۔ یہی ترجیح درحقیقت ان سرگزشتوں کا لب لباب ہے۔
پیغمبروں کے ذکر میں ترتیب حضرت ہ اورن ؑ تک تو تاریخی ہے اس کے بعد ترتیب صفاتی ہوگئی ہے۔ اس کی وضاحت آیات کی تفسیر کے ذیل میں آئے گی۔ اس روشنی میں آیات کی تلاوت فرمایئے۔
-5 الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
ولقد نا دینا نوح فلینعم المجیون، ونجینہ واعلہ من الکرب العظیم (76-75)
حضرت نوح کی فریاد اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کا جواب
یہ حضرت نوح ؑ کی اس فریاد کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے اپنے رب کے سامنے اس وقت کی ہے جب وہ ایک طویل مدت تک اپنی قوم کو دعوت دینے کے بعد اس کے ایمان سے کلیتاً مایوس ہوگئے ہیں اور جس کا ذکر سورة شعرآء آیات 118, 117 میں گزر چکا ہے۔ سورة نوح میں ان کی یہ فریاد تفصیل سے نقل ہوئی ہے، جس کے آخری الفاظ یہ ہیں۔
وقال نوح رب الاتذر علی الارض من الکفرین دیاراً انک ان تذرھم یضلوا عبادک ولا یلدوا الا ناچرا کفاراً (27-26)
اور نوح نے اپنے رب سے دعا کی، اے میرے رب ! زمین پر تو کافروں میں سے کسی کو چلتا پھرتا نہ چھوڑ۔ اگر تو ان کو چھوڑے رکھے گا تو وہ صرف نابکاروں اور ناشکروں ہی کو جنم دیں گے۔
یہ فریاد حضرت نوح ؑ نے اس وقت کی جب وہ اپنی طاقت کا آخری قطرہ بھی نچوڑ چکے تھے اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی فریاد فوراً سنی۔ چناچہ ان لوگوں کے سوا جو حضرت نوح پر ایمان لائے بقیہ سارے لوگ غرق کردیئے گئے۔ سورة نوح میں ان کی قوم کے نابکاروں کا انجام ان الفاظ میں بیان ہوا ہے۔
مما خطیتھم اغرقوا فادخلوا نارا، فلم یجیدوالھم من دون اللہ ابصاراً (نوح 25)
وہ اپنے جرائم کی پاداش میں غرق کردیئے گئے پھر آگ میں داخل کئے گئے اور انہوں نے اللہ کے مقابل میں اپنے لئے کوئی مددگار نہیں پایا۔
یہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کو تسلی دی گئی ہے کہ صبر کے ساتھ حالات کا مقابلہ کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ دعائوں اور جاں فشانیوں سے بیخبر نہیں ہے۔ جب قوم پر حجت تمام ہوجائے گی تو تم دیکھ لوگے کہ اللہ کی نصرت کس طرح ظاہر ہوتی ہے اور تمہارے دشمن کس طرح نامراد و پامال ہوتے ہیں۔