Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 79

Tafseer
  1. سَلٰمٌ عَلٰى نُوْحٍ فِی الْعٰلَمِیْنَ﴿79﴾

    1. سَلٰمٌسلام ہو
    2. عَلٰيپر
    3. نُوْحٍنوح
    4. فِي الْعٰلَمِيْنَسارے جہانوں میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
نوح پر سلامتی ہے دنیا والوں میں !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
سلم علی نوح فی العلمین انا کذلک نجزی المحسنین انہ من عباد نا الامومنین ثم اغرقنا الاخرین (82-78) یہ حضرت نوح ؑ کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین اور دنیا و آخرت دونوں میں برکت و سلامتی کی بشارت ہے کہ اس دنیا میں جو مقام اس کو حاصل ہوا وہ اس سے پہلے کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ تمام خلق میں یہ بازی اسی نے جیتی۔ خوب کاربندوں کے لئے اباری بشارت انا کذلک … الایۃ یہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ یہ معاملہ صرف حضرت نوح ؑ ہی کے لئے خاص نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خوب کار بندوں کے ساتھ ہمیشہ یہی معاملہ کیا ہے اور آئندہ بھی وہ اپنے مخلص بندوں کے ساتھ یہی کرے گا۔ یہ فضیلت کسی ذات کے ساتھ نہیں بلکہ صافت کے ساتھ مخصوص ہے۔ جو لوگ اپنے انداز احسان کی صفت پیدا کریں گے اللہ تعالیٰ ان کو اسی طرح صلہ دے گا۔ لفظ احسان کی وضاحت اس کتاب میں جگہ جگہ ہوچکی ہے۔ اس کی اصل حقیقت پورے اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے احکام کی بجا آوری ہے۔ انہ من عبادنا المومنین یہاں لفظ مومن اپنے کامل معنی میں ہے۔ یہ فقرہ بھی حضرت نوح کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین کے مفہوم میں ہے کہ ”بیشک وہ ہمارے راسخ الایمان بندوں میں سے تھا نہ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان کا دعویٰ اور اس کی دعوت لے کر اٹھے ہیں ان کو اپنے سامنے یہ اسوہ رکھنا چاہئے۔ ایمان کا حقیقی مقتضا یہی ہے۔ جو لوگ اس طرح ایمان کا حق ادا کرتے ہیں وہی لوگ مرتبہ احسان پر فائز ہوتے ہیں اور انہی کے لئے اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ فضیلت ہے جو نوح کو حاصل ہوئی۔ ثم اغرقنا الاخسرین یعنی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو چھانٹ لیا جن کے اندر صلاحیت تھی۔ باقی سارے لوگوں کو غرق کردیا۔ یہی اس دنیا کی خلقت کی غایت ہے۔ اس کے اندر سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو چھانٹ لے گا جو اپنے اندر صلاحیت کا ثبوت دیں گے۔ باقی سارے لوگوں کو خسک و خاشاک کی طرح جہنم میں جھونک دے گا۔