Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 87

Tafseer
  1. فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴿87﴾

    1. فَمَاسو کیا
    2. ظَنُّكُمْتمہارا گمان
    3. بِرَبِّپروردگار کے بارے میں
    4. الْعٰلَمِيْنَتمام جہانوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو خداوند عالم کے باب میں تمہارا کیا گمان ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فما ظنکم برب العلمین (87) یہ جملہ الفاظ کے لحاظ سے جتنا مختصر ہے معافی کے اعتبار سے اتنا ہی وسیع ہے۔ مططلب یہ ہے کہ اگر تم خدا کے سوا دوسرے معبودوں کے طالب بنے ہو تو خدائے رب العلمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ! کیا تم اس بدگمانی میں مبتلا ہو کہ یہ تنہا تمہاری ضروریات کی کفالت اور تمہاری حفاظت سے قاصر ہے ؟ کیا وہ اکیلا اس دنیا کے انتظام سے عاجز ہے اس وجہ سے تم نے اس کے لئے مددگار تلاش کئے ہیں ؟ کیا تم اس وہم میں مبتلا ہو کر وہ اس دنیا کے سرگوشے اور ہر فرد کے حالات سے باخبر نہیں ہو سکتا اس وجہ سے اس کو باخبر کرنے کے لئے دوسرے وسائل و وسایط کی ضرورت ہے ؟ کیا تم اس کے عدل و رحم سے مایوس ہو کر اس کی رمت حاصل کرنے کے لئے تم نے اپنے جی سے اس کے دربار کے لئے سفارشی ٹھہرائے ہیں ؟ مطلب یہ ہوا کہ جب تک خداوند کریم کے بارے میں اس قسم کی کوئی بدگمانی کسی کو نہ ہو اس وقت تک وہ اس کے سوا کسی کو اپنا معبود بنانے کا تنگ گوار نہ کرے گا ! اور اگر کوئی شخص اپنے رب سے اس قسم کا کوئی سوء ظن رکھتا ہے تو اسے یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اعلیاذ باللہ خدا کوئی بےحمیت و بےغیرت ہستی نہیں ہے کہ وہ اپنی ذات اور اپنی مملکت میں ہر ایک کی شرکت و مداخلت گوارا کرے بلکہ وہ عزیز و جبار اور غیور و متکبر ہے اس وجہ سے وہ ایسے تمام لوگوں کو جہنم میں جھونک دے گا جو اس کی خائی میں شریک بننے کے مدعی ہوں گے یا دوسروں کو شریک بنائیں گے۔
Tadabbur-e-Quran - 37 : 87