تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 88
Tafseerفَنَظَرَ نَظْرَةً فِی النُّجُوْمِۙ﴿88﴾
- فَنَظَرَپھر اس نے دیکھا
- نَظْرَةًایک نظر
- فِيمیں۔ کو
- النُّجُوْمِستارے
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اس نے ایک نظر ستاروں پر ڈالی۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فنظر نظرۃ فی النجوم فقال انی سقم فتولوا عنہ مدبرین فراغ الی الھتم فقال الا تاکلون، مالکم لاتنطقون، فراغ علیھم ضرابط بالیمین (93-88)
قوم کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی کی وضاحت
مذکورہ بالا تقریر حضرت ابراہیم ؑ نے معلوم ہوتا ہے، معبد میں یا کسی تقریب کے موقع پر کی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے یہ اسکیم بنائی کہ اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے ان کے معبودوں کی بےحقیقی اچھی طرح واضح کردیں۔ اس کے لئے یہ طریقہ انہوں نے اختیار کیا کہ شب میں تقریب سے فارغ ہو کر جب لوگ وہاں سے رخصت ہونے لگے تو انہوں نے ایک نظر اس طرح ستاروں پر ڈالی گویا وقت کا اندازہ کرنا چاہتے ہوں اور لوگوں کے کانوں میں بات ڈالتے ہوئے فرمایا کہ میں اس وقت ماندہ ہو رہا ہوں۔ لوگوں نے یہ سمجھا کہ رات زیادہ گزر چکی ہے اور یہ نوجوان دن بھر کا تھکا ہوا ہے اس وجہ سے اس وقت گھر نہیں جانا چاہتا بلکہ یہیں معبد میں رات گزارنی چاہتا ہے۔ یہ ایک معمولی بات تھی اس وجہ سے لوگ ان کو وہاں چھوڑ کر اپنے اپنے گھروں کو سدھار رہے حضرت ابراہیم ؑ کو جب تنہائی ملی تو وہ نظر بچا کے بت خانے میں جا گھسے پہلے بتوں پر کچھ طنز یہ فقرے چست کئے کہ آخر آپ لوگوں کے سامنے یہ بھوجن جو رکھا ہوا ہے اس کو نوش کیوں نہیں فرماتے اور اس درجہ خاموشی کیوں ہے، کچھ بولتے کیوں نہیں ! ! اس کے بعد چند بھرپور ہاتھ ایسے مارے کہ ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔ دوسرے مقام میں ہے کہ تمام چھوٹے بتوں کو توڑ دیا صرف بڑے بت کو ایک خاص مصلحت سے، جس کی وضاحت سورة انبیاء میں ہوچکی ہے، چھوڑ دیا۔
مفسرین کی ایک غلط فہمی کا ازالہ
یہ اصل واقعی کی سیدھی سادی شکل ہے جو الفاظ قرآن سے سامنے آتی ہے لیکن مفسرین نے معلوم نہیں کس طرح اس کے تحت ایسی روایتیں نقل کردی ہیں جن سے یہو بات نکلتی ہے کہ نعوذ باللہ حضرت ابراہیم ؑ نے اس موقع پر غلط بیانی کی اور وہ ساتروں کے مئوثر ہونے پر عیدہ رکھتے تھے۔
حضرت ابراہیم ؑ نے ستاروں پر جو نظر ڈالی تو اس وجہ سے نہیں کہ وہ ستارہ پرستوں کی طرح ان کے کسی تاثیر کے قائل تھے بلکہ وہ محض وقت کا اندازہ کرنا چاہتے تھے۔ جب تک گھڑیوں کا رواج نہیں ہوا تھا لوگ شب میں، وقت کا اندازہ کرنا ہوتا تو، ستاروں کو دیکھتے اور دن میں سورج ک، اس زمانے میں جس طرح وقت معلوم کرنے کے لئے ہر شخص کی نگاہ کلائی کی گھڑی کی طرف جاتی ہے بددیانہ زندگی میں اس مقصد کے لئے ہر شخص کی نظر بےساختہ آسمان کی طرف اٹھتی۔ حضرت ابراہیم ؑ نے بھی بالکل اسی مقصد سے ستاروں پر ایک نظر ڈالی۔ اس کا کوئی تعلق نہ ستارہ پرستوں کے اوہام سے تھا اور نہ کواکب کی تاثیر سے۔
اسی طرح انہوں نے یہ جو فرمایا کہ انی سقیم یہ بھی انہوں نے کوئی غلط بیانی نہیں کی۔ سقیم عربی زبان میں میرض، ماندہ، مضمحل، نڈھال اور ضعیف و ناتواں سب کے لئے آتا ہے۔ جس کلام کے در و بست میں چستی نہ ہو اس کو بھی سقیم کہتے ہیں۔ اسی سورة میں اگے حضرت یونس کے ذکر میں ہے کہ فتبدنہ بالعرآء وھو سقیم (145) ظاہر ہے کہ یہ لفظ یہاں ضعیف و کمزوری کے معنی میں استعمال ہا ہے۔ اوپر ہم یہ اشارہ کرچکے ہیں کہ یہ موقع معبد میں کسی میلے کا تھا۔ ایسے موقع پر ایک حد تک ماندہ مضحمل تو ہر شخص ہوجاتا ہے۔ اسی کیفیت کا احساس حضرت ابراہیم ؑ نے بھی فرمایا اور چونکہ وہ معبد کے اندر ہی رات گزارنے کا ارادہ رکھتے تھے اس وجہ سے انہوں نے آسمان پر ایک نظر ڈال کر اور یہ فقرہ فرما کر معبد کے ذمہ داروں اور محافظوں کو یہ تصور دے دیا کہ گویا وہ تکان وا ضمحلال اور زیارات گزر جانے کے سبب سے اس وقت گھر جانا نہی چاہتے بلکہ یہیں پڑ رہنا چاہتے ہیں۔ اس طرح اگرچہ معبد کے اندر قیام کے لئے انہوں نے ایک توریہ کیا جس سے معبد کے محافظ مغالطہ میں پڑگئے لیکن اس توریہ کے لئے حضرت ابراہیم ؑ نے جو طریقہ اختیار فرمایا اور جو الفاظ زبان سے نکالے اس میں نہ کسی جھوٹ کی آمیزشن تھی نہ کسی بدعقیدگی کی بلکہ یہ اسی طرح کا ایک پاکیزہ توریہ تھا جس کی بعض نہایت عمدہ مثالیں پیچھے گزر چکی ہیں۔
فتولوا عنہ مدبرین
حضرت ابراہیم کے توریہ سے معبدہ کے پیروئوں کو مغالطہ
یہ رویہ بیان ہوا ہے ہے معبد کے پہرہ داروں اور ذمہ داروں کا انہوں نے حضرت ابراہیم ؑ کے انداز اور ان کے فقرے سے یہ گمان کیا کہ یہ نوجوان تکان محسوس کر رہا ہے اور رات چونکہ زیادہ گزر چکی ہے اس وجہ سے اس وقت گھر جانا نہیں چاہتا۔ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ ارادہ ان کو بالکل بےضرر محسوس ہوا اس وجہ سے انہوں نے اس میں مخل ہونا پسند نہیں کیا بلکہ ان کو چھوڑ کر وہ اپنے اپنے ٹھکانوں کو چلے گئے۔
فراغ الی الھتھم لفظ روغان عربی میں نظر بچا کر کترا کر اور کا والگا کر کہیں جانے یا پہنچنے کے لئے آتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم نے بتوں تک پہنچنے کے لئے یہ اہتمام اس وقت کیا ہے جب ان کو اندازہ ہوگیا کہ پہرے دار سو چکے ہیں۔ اس وقت وہ چپکے سے اٹھے اور دبے پائوں سب کی نگاہیں بچا کر معبد کے اس حصے میں پنچ گئے جہاں بت رکھے ہوئے تھے۔
فعال الاتاکلون مالکم لاتنطقون پہلے انہوں نے ان پر کچھ طنزیہ فقرے چست کئے۔ فریاد کہ یہ لذیذ کھانے اور حلوے جو آپ کے پجاریوں نے آپ لوگوں کے سامنے پیش کئے ہیں ان کو آخر تناول کیوں نہیں فرماتے ! اور یہ آپ لوگ چپ چپ سے کیوں ہیں، کچھ گفتگو کیوں نہیں کرتے ! ان طنزیہ فقروں سے واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے جس وقت یہ اقدام کیا ان پر کسی گھبراہٹ کا کوئی اثر نہیں تھا، بلکہ وہ نہایت خوشگوار موڈ میں تھے کہ ان کو اپنی اسکیم کے مطابق ان خداوندوں کی تواضع کرنے کا نہایت عمدہ موقع ہاتھ آگیا اور ان کی تدبیر بالکل کامیاب رہی۔
فراغ علیھم ضرباً بالیمین، اس جملہ کی اصل ترکیب کلام یوں ہے۔ فراغ علیھم بضربھم ضرباً بالیمین، اس وجہ سے اس کا صحیح مفہم یہ ہوگا کہ پس وہ ان پر پل پڑا، مارتے ہوئے بھرپور ہاتھ لفظ یمین دہنے ہاتھ کے لئے آتا ہے اور دہنے ہاتھ کی ضرب چونکہ بھرپور ہوتی ہے اس وجہ سے یہاں یہ بھرپور ہاتھ مارنے کے مفہوم میں استعمال ہا ہے۔
پہرے داروں کا رویہ حضرت ابراہیم کے ساتھ
یہاں سرگزشت کا کچھ حصہ حذف ہے جس کی وضاحت سو رہ انبیاء سے ہوتی ہے۔ جس وقت حضرت ابراہیم نے بتوں کو توڑا ہے اس وقت تو کسی کو خبر نہیں ہوئی۔ بعد میں جب پہرے داروں کو اس حادثہ کی اطلاع ہوئی اور یہ سوال پیدا ہوا کہ یہ کس کی کارستانی ہو سکتی ہے تو حضرت ابراہیم ؑ چونکہ بتوں کی ہجو کرتے رہے تھے اور انہوں نے دھمکی بھی دے رکھی تھی کہ وہ ان بتوں کے ساتھ ایک چال کرنے والے ہیں اس وجہ سے معبد کے ذمہ داروں کی رائے یہی قرار پائی کہ ہو نہ ہو یہ انہی کی کارروائی ہے چناچہ سارے لوگ بھاگے ہوئے ان کے پاس پہنچے اور ان سیپ وچھ گچھ شروع کردی۔ پہلے تو انہوں نے لوگوں کا مذداق اڑایا اور بڑے بت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے توڑا ہوگا اور ساتھ ہی ان کی حماقت کی طرف توجہ دلانے کے لئے فرمایا کہ مجھ سے کیوں پوچھتے ہو، اپنے ان معبودوں ہی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے جن پر یہ مصیبت گزری ہے ! اگر یہ اپنے سر پر آنی ہوئی مصیبت کو نہ خود دفع کرسکتے اور نہ اس کو بیان ہی کرسکتے ہیں تو آخر یہ کس مرض کی دوا ہیں کہ تم ان کی پوجا کر رہے ہو ! حضرت ابراہیم ؑ کے اس معارضہ سے اول اول تو وہ بہت شرمائے لیکن پھر حمیت جاہلیت ان پر غالب آگئی اور بولے کہ بھلا ان سے ہم کس طرح پوچھیں، یہ تو تمویں معلوم ہی ہے کہ یہ بولتے نہیں ؟ ان کے اس اعتراف کے بعد حضرت ابراہیم ؑ نے ان کو اچھی طرح لتاڑا جس سے برہم ہو کر انہوں نے ان کو آگ میں جلا دینے کی سازش کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ سازش ناکام بنا دی۔