تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 37. As-Saaffaat · Ayah 95
قَالَ اَتَعْبُدُوْنَ مَا تَنْحِتُوْنَۙ﴿95﴾
- قَالَاس نے فرمایا
- اَ تَعْبُدُوْنَکیا تم پرستش کرتے ہو
- مَا تَنْحِتُوْنَجو تم تراشتے ہو
Translation · Tadabbur-e-Quran
اس نے کہا کیا تم لوگ اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی چیزوں کو پوجتے ہو !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قال اتعبدون ماتنحتون واللہ خلقکم وما تعملون (96-95)
اتمام حجت کے بعد قوم کو ملامت
حضرت ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کے لوگوں کو یہ ملامت اس وقت کی ہے جب انہوں نے ان پر، جیسا کہ م نے اشارہ کیا، حجت تمام کرلی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ شامت زودو ! تم اپنے ہی ہاتھوں کی گھڑی ہوئی، لکڑی اور پتھر کی مورتوں کی پجاک رتے ہو ! اللہ کی پوجا تو اس لئے کی جاتی ہے کہ اس نے ہم کو پیدا کیا ہے لیکن تمہاری عقل اس طرح ماری گئی ہے کہ تم جن کو خود اپنے ہاتھوں تراشتے ہو انہی کی پوجا کرتے ہو۔ گویا اپنے خالقوں کے خالق تم خود ہو یاد رکھو کہ اللہ ہی ہے جس نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور ان لکڑیوں اور پتھروں و بھی پیدا کیا ہے جن سے تم اپنے معبودوں کو تراشتے ہو اور ان جنات و ملائکہ کو بھی پیدا کیا ہے جن کے تم پیکر تراشتے ہو … بعض متکلمین نے وما تعملون سے یہ استدلال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کے افعال و اعمال کا بھی خالق ہے۔ اس آیت سے یہ استدلال ہمارے نزدیک بالکل بےمحل ہے۔ ہم نے اس کی صحیح تاویل واضح کردی ہے اس وجہ سے اس کی تردید کی ضرورت باقی نہیں رہی۔