Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 20

  1. لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌ١ۙ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ؕ۬ وَعْدَ اللّٰهِ١ؕ لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ﴿20﴾

    1. لٰكِنِلیکن
    2. الَّذِيْنَ اتَّقَوْاجو لوگ ڈرے
    3. رَبَّهُمْاپنا رب
    4. لَهُمْان کے لیے
    5. غُرَفٌبالاخانے
    6. مِّنْ فَوْقِهَاان کے اوپر سے
    7. غُرَفٌبالاخانے
    8. مَّبْنِيَّةٌ ۙبنے ہوئے
    9. تَجْرِيْجاری ہیں
    10. مِنْ تَحْتِهَاان کے نیچے
    11. الْاَنْهٰرُنہریں
    12. وَعْدَ اللّٰهِ ۭاللہ کا وعدہ
    13. لَا يُخْلِفُخلاف نہیں کرتا
    14. اللّٰهُاللہ
    15. الْمِيْعَادَوعدہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
البتہ جو اپنے رب سے ڈرے ان کے لئے بالاخانے اور بالاخانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے۔ ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے۔ اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
(آیت 20) نکن یہاں استدراک کے لئے ہے اس وجہ سے اس کا موزوں ترجمہ البتہ ہوگا۔ مبینۃ یہاں آراستہ و پیراستہ (Furnished) کے مفہوم میں ہے۔ عربی میں بنی الدار جس طرح مکان بنانے کے مفہوم میں آتا ہے اسی طرح مکان آرساتہ کرنے کے مفہوم میں بھی آتا ہے۔ مفسرین نے اس معنی کی طرف توجہ نہیں کی ہے لیکن قرآن اور کلام عرب میں اس کے شواہد موجود ہیں۔ آگے کسی موزوں مقام پر اس کی تحقیق آئے گی۔ وعد اللہ فعل محذوف سے منصوب اور اس کی تاکید کے لئے ہے۔ اوپر کفار کے لئے جو عذاب لھم من فوقھم ظل من النار ومن تحتھم ظلل کے الفاظ سے بیان ہوا ہے۔ اس کے مقابل میں یہ ان لوگوں کا صلہ بیان ہوا ہے جو اپنے رب سے ڈرتے اور شرک سے بچتے رہے۔ فرمایا کہ ان کے لئے آرساتہ بالا خانے ہوں گے اور ان بالا خانوں کے اوپر بھی آراستہ بالاخانے ہوں گے۔ ان بالا خانوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا حتمی وعدہ ہے اور اللہ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔