تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 45
وَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَحْدَهُ اشْمَاَزَّتْ قُلُوْبُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اِذَا ذُكِرَ الَّذِیْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِذَا هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ﴿45﴾
- وَاِذَااور جب
- ذُكِرَ اللّٰهُذکر کیا جاتا ہے اللہ
- وَحْدَهُایک۔ واحد
- اشْمَاَزَّتْمتنفر ہوجاتے ہیں
- قُلُوْبُدل
- الَّذِيْنَوہ لوگ جو
- لَا يُؤْمِنُوْنَایمان نہیں رکھتے
- بِالْاٰخِرَةِ ۚآخرت پر
- وَاِذَااور جب
- ذُكِرَذکر کیا جاتا ہے
- الَّذِيْنَان کا جو
- مِنْ دُوْنِهٖٓاس کے سوا
- اِذَاتو فورا
- هُمْوہ
- يَسْتَبْشِرُوْنَخوش ہوجاتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب صرف اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان لوگوں کے دل کڑھتے ہیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور جب اس کے سوا دوسروں کا ذکر آتا ہے تو یہ خوش ہوجاتے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 45
شفاعت باطل کا عقیدہ آخرت کی باز پرس یس فرار کے لئے ایک چور دروازہ ہے
یہ شرک و شفاعت کے وجود میں آنے کے ایک بہت بڑے سبب کی طرف اشارہ ہے کہ چونکہ آخرت خدا کے عدل کامل اور جزاء و سزا کے ظہور کا دن ہے اور اس کے ماننے سے انسان پر نہایت بھاری ذمہ داریاں عائد ہوجاتی ہیں اس وجہ سے جو لوگ ان ذمہ داریوں سے گریز اختیار کرنا چاہتے ہیں وہ شرک و شفاعت کی آڑ لیتے ہیں وہ ایمان و عمل کے تقاضے پورے کرنے کا نہ حوصلہ رکھتے اور نہ اپنے نفس کی خواہشوں پر کوئی پابندی ہی قبول کرنے کے لئے تیار ہیں اس وجہ سے اول تو وہ آخرت کو مانتے ہی نہیں اور اگر مانتے بھی ہیں تو شرک و شفاعت کا عقیدہ ایجاد کر کے اس کے تمام خطرات سے اپنے زعم کے مطابق وہ اپنے آپ کو محفوظ کرلیتے ہیں ان لوگوں کا سارا اعتماد اپنے مزعومہ شفعاء کی شفاعت پر ہوتا ہے اس وجہ سے اگر ان کے سامنے توحید کا ذکر آئے تو ان کے دل بھینچنے لگتے ہیں اس لئے کہ پھر آخرت ان کے سامنے اپنی پوری ہولناکی کے ساتھ آن کھڑی ہوتی ہے۔ البتہ جب ان کے مزعومہ شرکاء و شفعاء کا ذکر ہو تب وہ اطمینان کا سانس لیتے ہیں اس لئے کہ اس صورت میں ان کو آخرت سے بےقید زندگی گزارنے کا لائسنس مل جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ شفاعت باطل کا عقیدہ درحقیقت آخرت کی ذمہ داریوں سے گریز کے لئے ایک چور دروازہ ہے۔