Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 39. Az-Zumar · Ayah 74

  1. وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ وَ اَوْرَثَنَا الْاَرْضَ نَتَبَوَّاُ مِنَ الْجَنَّةِ حَیْثُ نَشَآءُ١ۚ فَنِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَ﴿74﴾

    1. وَقَالُوااور وہ کہیں گے
    2. الْحَمْدُتمام تعریفیں
    3. لِلّٰهِاللہ کے لیے
    4. الَّذِيْوہ جس نے
    5. صَدَقَنَاہم سے سچا کیا
    6. وَعْدَهٗاپنا وعدہ
    7. وَاَوْرَثَنَااور ہمیں وارث بنایا
    8. الْاَرْضَزمین
    9. نَتَبَوَّاُہم مقام کرلیں
    10. مِنَسے۔ میں
    11. الْجَنَّةِجنت
    12. حَيْثُجہاں
    13. نَشَآءُ ۚہم چاہیں
    14. فَنِعْمَسو کیا ہی اچھا
    15. اَجْرُاجر
    16. الْعٰمِلِيْنَعمل کرنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہ کہیں گے شکر ہے اللہ کے لئے جس نے ہم سے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا اور ہم کو ارض جنت کا وارث بنایا۔ ہم جنت میں جہاں چاہیں براجماں ہوں پس کیا ہی خوب صلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آیت 74 جنت کی وراثت الارض سے مراد یہاں وہی ارض جنت ہے جس کا ذکر اوپر آیت 69 میں گزر چکا ہے۔ اس آیت میں اس کے ارض جنت ہونے کی تصریح ہوگئی ہے۔ اہل جنت جب اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے سے جو وعدے کئے تھے وہ ایک ایک کر کے سب پورے کردیے تو ان کی زبان پر بےساختہ کلمہ شکر جاری ہوجائے گا کہ اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ہم سے اپنے تمام وعدے پورے کئے اور ہم کو ارض جنت کا وارث بنایا، ہم اس میں جہاں چاہیں فروکش ہوں۔ وارث بنانے میں ایک لطیف تلمیح اس بات کی طرف ہے کہ یہ جنت ہمارے باپ آدم کو ملی تھی لیکن شیطان نے ان کو ورغلا کر اس سے محورم کردیا تھا اور اس کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ شرط ٹھہرائی تھی کہ اولاد آدم دنیا میں جا کر شیطان سے مقابلہ کرے تو جو شیطان سے جیت جائیں گے وہ اس جنت کے وارث ٹھہریں گے اور جو شیطان کے فتنوں میں پھنس جائیں گے وہ شیطان کے ساتھ دوزخ میں پڑیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس امحتان میں ہم کو کامیابی حاصل ہوئی اور ہم نے اپنے باپ کی کھوئی ہوئی جنت پھر حاصل کرلی۔ فتبوا من الجنۃ حیث تشآء اہل جنت کے باب میں جس طرح پیچھے یہ بات گزر چکی ہے کہ ان کو وہ سب کچھ حاصل ہوگا جو وہ چاہیں گے، اسی طرح یہ بات بھی ان کے باب میں ارشاد ہوئی ہے کہ وہ جنت میں جہاں چاہیں گے پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ فروکش ہوں گے اس سے معلوم ہوا کہ وہاں کسی کی خواہشوں اور ارادوں میں مزاحم ہونے والی کوئی چیز نہیں ہوگی۔ یہ ایک ایسا مقام ہے جس کا اس جہان میں کوئی تصور نہیں کیا جاسکتا۔ اس کی حقیقت اسی وقت سمجھ میں آئے گی جب وہ نیا جہان نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ اور انسان اپنی نئی قوتوں اور صلاحیتوں کے ساتھ ظہور میں آئے گا اور یہ زمین سورج کے بجائے اپنے رب کے نور سے جگمگا اٹھے گی۔ فنعم جزالعمین یہ ٹکڑا بالکل فبئس مثویا لمتکبرین کے مقابل میں ہے۔ اس تقابل کا تقاضا تو یہ تھا کہ یہاں خاشعین یا متقین یا اسکے ہم معنی کوئی لفظ ہوتا لیکن اس سے صرف تقابل کا حق ادا ہوتا، معنی میں کوئی خاص اضافہ نہ ہوتا، لفظ عاملین سے معنی میں یہ اضافہ ہوگیا ہے کہ جنت کے حصول کے لئے اصل شے عمل ہے، جو لوگ قرضی سفارشوں کے بل پر جنت کے خواب دیکھ رہے ہیں وہ جنت الحمقاء میں بس رہے ہیں۔