تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 122
وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِیْلًا﴿122﴾
- وَالَّذِيْنَاور جو لوگ
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
- الصّٰلِحٰتِاچھے
- سَنُدْخِلُھُمْہم عنقریب انہیں داخل کریں گے
- جَنّٰتٍباغات
- تَجْرِيْبہتی ہیں
- مِنْسے
- تَحْتِھَاان کے نیچے
- الْاَنْھٰرُنہریں
- خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
- فِيْھَآاس میں
- اَبَدًاہمیشہ ہمیشہ
- وَعْدَ اللّٰهِاللہ کا وعدہ
- حَقًّاسچا
- وَمَنْاور کون
- اَصْدَقُسچا
- مِنَسے
- اللّٰهِاللہ
- قِيْلًابات میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک کام کیے ہم ان کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ اللہ کا وعدہ حق ہے اور اللہ سے زیادہ وعدے کا سچا کون ہوسکتا ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
122۔ 124:۔ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُھُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِيْنَ فِيْھَآ اَبَدًا ۭ وَعْدَ اللّٰهِ حَقًّا ۭ وَمَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ قِيْلًا۔ لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ ۭ مَنْ يَّعْمَلْ سُوْۗءًا يُّجْزَ بِهٖ ۙ وَلَا يَجِدْ لَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِيًّا وَّلَا نَصِيْرًا۔ وَمَنْ يَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ مِنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَھُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰۗىِٕكَ يَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُوْنَ نَقِيْرًا۔
نجات کی راہ ایمان و عمل صالح ہے نہ کہ جھوٹی آرزوئیں : یعنی شیطان کے وعدے اور اس کی پیدا کی ہوئی آرزوئیں تو محض جھوٹ اور فریب ہیں۔ البتہ اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ جو ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کریں گے ان کو وہ جنت میں داخل کرے گا اور یہ وعدہ بالکل حق ہے اس لیے کہ یہ اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کے وعدے سے زیادہ سچا وعدہ کس کا ہوسکتا ہے۔ پھر فرمایا کہ نجات سے متعلق یہ جھوٹی آرزوئیں خواہ تمہاری ہوں (اشارہ منافقین کی طرف ہے) یا اہل کتاب کی، ان میں سے کوئی بھی پوری ہونے والی نہیں ہے۔ جو بھی برائی کرے گا وہ اپنے کیے کی سزا بھگتے گا اور خدا کے سوا کوئی اس کا کارساز و مددگار نہ بن سکے گا۔ اسی طرح جو عمل صالح کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، اگر وہ مومن ہے تو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور ذرا بھی ان کے اجر میں کوئی کمی نہ ہوگی۔ منافقین اور اہل کتاب دونوں کی آرزوؤں کا ایک ساتھ ذکر کرکے قرآن نے یہ واضح کردیا کہ شرک، شفاعت اور خاندانی برگزیدگی کے بل پر جنت کے خواب دیکھنے والے سب ایک ہی جنت الحمقا کے بسنے والے اور ایک ہی دام فریب کے گرفتار ہیں اور ان سب کی نامرادی ایک ہی طرح کی ہے۔ آخرت کی بازی ان لوگوں کی ہے جو ایمان اور عمل صالح کی راہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ جس کے پاس یہ دولت ہوگی، وہ فائز المرام ہے خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اسرائیلی ہے یا اسمعیلی، عربی ہے یا عجمی۔ اس طرح کسی نسبت کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی کمی نہیں ہوگی۔