تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 57
Tafseerوَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا﴿57﴾
- وَالَّذِيْنَاور وہ لوگ جو
- اٰمَنُوْاایمان لائے
- وَعَمِلُوااور انہوں نے عمل کیے
- الصّٰلِحٰتِنیک
- سَنُدْخِلُھُمْعنقریب ہم انہیں داخل کریں گے
- جَنّٰتٍباغات
- تَجْرِيْبہتی ہیں
- مِنْ تَحْتِھَاان کے نیچے
- الْاَنْھٰرُنہریں
- خٰلِدِيْنَہمیشہ رہیں گے
- فِيْھَآاس میں
- اَبَدًاہمیشہ
- لَھُمْان کے لیے
- فِيْھَآاس میں
- اَزْوَاجٌبیبیاں
- مُّطَهَّرَةٌپاک ستھری
- وَّنُدْخِلُھُمْاور ہم انہیں داخل کریں گے
- ظِلًّاچھاؤں
- ظَلِيْلًاگھنی
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اچھے عمل کیے ہم ان کو ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اس میں ہمیشہ رہیں گے، اس میں ان کے لیے پاک بیویاں ہوں گی اور ہم ان کو گھنی چھاؤں میں رکھیں گے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
دوسرا گروہ جو ایمان لایا ان کے متعلق فرمایا کہ ان کو ہم جنت میں داخل کریں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اس میں ان کے لیے پاکیزہ بیویاں ہوں گی۔ ان تمام اجزا کی تشریح سورة بقرہ میں ہوچکی ہے۔ قرآن نے جہاں کہیں بنی اسماعیل پر اپنے اس احسان عظیم کا ذکر فرمایا ہے وہاں اس امر کی وضاحت ضرور فرما دی ہے کہ اس احسان کا تعلق ایمان و اسلام سے ہے۔
مجرد خاندان و نسب سے نہیں ہے۔ بنی اسماعیل میں سے بھی وہی لوگ اس انعام الٰہی میں حصہ دار ہیں جو اس قرآن اور اس نبی پر ایمان لائے ہیں، جو ایمان نہیں لائے وہ سب دوزخ میں جائیں گے، اسرائیلی ہو یاں اسماعیلی۔ سورة جمعہ میں فرمایا ہے ”هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الأمِّيِّينَ رَسُولا مِنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلالٍ مُبِينٍ (2) وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (3): وہی خدا ہے جس نے امیوں (بنی اسماعیل) میں انہی میں سے ایک رسول اٹھایا جو سناتا ہے ان کو اس کی آیتیں اور ان کو پاک کرتا ہے اور ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور بیشک وہ اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے اور ان دوسروں میں بھی جو ابھی تک ان سے ملے نہیں ہیں اور اللہ عزیز و حکیم ہے“۔
یہاں بھی آخری ٹکڑے میں کفار قریش کی طرف اشارہ ہے جو ابھی تک اس نعمت کو قبول کرنے والوں میں شامل نہیں ہوئے تھے اور الفاظ کچھ تنبیہ کا پہلو لیے ہوئے ہیں۔ یہ تنبیہ اسی لیے ہے کہ بنی اسماعیل اس حقیقت سے آگاہ رہیں کہ اللہ نے بہت بڑا فضل ان پر فرمایا ہے لیکن یہ فضل انہی لوگوں کے لیے ہے جو اس کی قدر کریں، جو اس کی قدر نہ کریں گے ان کو یہ مجرد اس بنیاد پر حاصل نہیں ہوجائے گا کہ وہ بنی اسماعیل میں سے ہیں۔ چونکہ یہود اسی طرح کی غلط فہمی میں مبتلا ہو کر اللہ تعالیٰ کے فضل سے محروم ہوئے تھے اس وجہ سے پہلے ہی مرحلے میں قرآن نے یہ آگاہی بنی اسماعیل کو سنا دی۔