Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 83

  1. وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا﴿83﴾

    1. وَاِذَااور جب
    2. جَآءَھُمْان کے پاس آتی ہے
    3. اَمْرٌکوئی خبر
    4. مِّنَسے (کی)
    5. الْاَمْنِامن
    6. اَوِیا
    7. الْخَوْفِخوف
    8. اَذَاعُوْامشہور کردیتے ہیں
    9. بِهٖاسے
    10. وَلَوْاور اگر
    11. رَدُّوْهُاسے پہنچاتے
    12. اِلَى الرَّسُوْلِرسول کی طرف
    13. وَاور
    14. اِلٰٓىطرف
    15. اُولِي الْاَمْرِحاکم
    16. مِنْھُمْان میں سے
    17. لَعَلِمَهُتو اس کو جان لیتے
    18. الَّذِيْنَجو لوگ
    19. يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗتحقیق کرلیا کرتے ہیں
    20. مِنْھُمْان سے
    21. وَلَوْاور اگر
    22. لَانہ
    23. فَضْلُفضل
    24. اللّٰهِاللہ
    25. عَلَيْكُمْتم پر
    26. وَرَحْمَتُهٗاور اس کی رحمت
    27. لَاتَّبَعْتُمُتم پیچھے لگ جاتے
    28. الشَّيْطٰنَشیطان
    29. اِلَّاسوائے
    30. قَلِيْلًاچند ایک
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جب ان کو کوئی بات امن یا خطرے کی پہنچتی ہے تو وہ اسے پھیلا دیتے ہیں اور اگر یہ اس کو رسول اور اپنے اولو الامر کے سامنے پیش کرتے تو جو لوگ ان میں سے بات کی تہہ کو پہنچنے والے ہیں وہ اس کو اچھی طرح سمجھ لیتے۔ اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تھوڑے سے لوگوں کے سوا تم شیطان کے پیچھے لگ جاتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وَاِذَا جَاۗءَھُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ ۭوَلَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَاِلٰٓى اُولِي الْاَمْرِ مِنْھُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِيْنَ يَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْھُمْ ۭ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطٰنَ اِلَّا قَلِيْلًا۔ اولو الامر پر بحث اسی سورة کی آیت 59 کے تحت گزر چکی ہے۔ " استنباط " کا اصل مفہوم کنواں کھود کر اس سے پانی نکالنا اور کسی پوشیدہ چیز کو ظاہر کرنا ہے۔ اپنے اسی مفہوم سے ترقی کر کے کسی بات کی تہ کو پہنچنے اور اس کی حقیقت کو پانے کے معنی میں یہ استعمال ہوا۔ منافقین چونکہ ملت کے خیرخواہ نہیں تھے اس وجہ سے افواہیں پھیلانے کے معاملے میں بڑے چابکدست تھے۔ امن یا خطرے کی جو بات بھی ان کو پہنچتی آن کی آن میں جنگل کی آگ کی طرح ان کے ذریعے سے لوگوں میں پھیل جاتی۔ جماعتی زندگی میں افواہیں عام حالات میں بھی بڑے خطرناک نتائج پیدا کرسکتی ہیں اور جب حالات جنگ کے ہوں، جیسے کہ اس وقت تھے، تب تو ان کی خطرناکی وہ چند ہوجاتی ہے۔ منافقین ان افواہوں سے یوں تو مختلف فائدے اٹھانے کی کوشش کرتے لیکن خاص طور پر مسلمانوں، بالخصوص کمزور مسلمانوں کے حوصلے پست کرنے کے یہ ان کا خاص حربہ تھا۔ بعض مرتبہ وہ اس طرح کی افواہوں سے مسلمانوں کے اندر غلط قسم کا اطمینان بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتے اور ظاہر ہے کہ بےجا تشویش کی طرح غلط اطمینان بھی ایک خطرناک چیز ہے۔ افواہوں کے بارے میں صحیح طرز عمل : فرمایا کہ اگر یہ اللہ، رسول اور ملت کے خیرخواہ ہوتے تو ان کے لیے صحیح طریقہ یہ تھا کہ اس طرح کی جو باتیں ان کے علم میں آتیں ان کو عوام میں سنسنی پیدا کرنے کا ذریعہ بنانے کے بجائے ان کو رسول اور امت کے ارباب حل و عقد کے سامنے پیش کرتے تاکہ ان کے اندر جو لوگ معاملات کی گہری سوجھ بوجھ رکھتے ہیں ان کے موقع و محل کا تعین کرتے اور ان کے باب میں صحیح پالیسی اختیار کرتے۔ علم، کے معنی کسی شے کے موقع و محل کے تعین کے بھی آتے ہیں۔ ہم بقرہ میں قد علم کل اناس مشربہم (اور بنی اسرائیل کے ہر قبیلہ نے اپنا اپنا گھاٹ متعین کرلیا) ، کے تحت لفظ کے اس مفہوم کی طرف اشارہ کرچکے ہیں۔ وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ۔۔۔ الایہ سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ اب بھی ان کے لیے سنبھل جانے کا موقع ہے۔ یہ اللہ کا فضل و احسان ہے کہ ابھی اس نے ان کو شیطان کے پیچھے بگ ٹٹ چل کھڑے ہونے کے لیے چھوڑ نہیں دیا ہے، ویسے ہے یہ بھی شیطان ہی کی راہ۔ اسلام میں سیاسی نظام کی اہمیت اور اولوالامر کا درجہ : اس آیت سے اسلام میں سیاسی نظام کی اہمیت و عظمت واضح ہوتی ہے کہ عوام کو اجتماعی نفع و ضرر کے معاملات میں مرجع و معتمد اپنے اولوالامر کو بنانا چاہیے۔ بطورِ خود اس طرح کی چیزوں کو عوام میں پھیلانا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح اس سے یہ بات بھی نکلتی ہے کہ اسلام میں اولوالامر کے لیے ضروری ہے کہ وہ دین اور دنیا دونوں کی ایسی سوجھ بوجھ رکھنے والوں ہوں کہ پیش آنے والے حالات و معاملات میں شریعت و مصلحت کے تقاضوں کے مطابق قدم اٹھا سکیں۔