Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 4. An-Nisaa · Ayah 90

  1. اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا﴿90﴾

    1. اِلَّامگر
    2. الَّذِيْنَجو لوگ
    3. يَصِلُوْنَمل گئے ہیں (تعلق رکھتے ہیں
    4. اِلٰىطرف (سے)
    5. قَوْمٍقوم
    6. بَيْنَكُمْتمہارے درمیان
    7. وَبَيْنَھُمْاور ان کے درمیان
    8. مِّيْثَاقٌعہد (معاہدہ)
    9. اَوْیا
    10. جَآءُوْكُمْوہ تمہارے پاس آئیں
    11. حَصِرَتْتنگ ہوگئے
    12. صُدُوْرُھُمْان کے سینے (ان کے دل)
    13. اَنْکہ
    14. يُّقَاتِلُوْكُمْوہ تم سے لڑیں
    15. اَوْیا
    16. يُقَاتِلُوْالڑیں
    17. قَوْمَھُمْاپنی قوم سے
    18. وَلَوْاور اگر
    19. شَآءَ اللّٰهُچاہتا اللہ
    20. لَسَلَّطَھُمْانہیں مسلط کردیتا
    21. عَلَيْكُمْتم پر
    22. فَلَقٰتَلُوْكُمْتو یہ تم سے ضرور لڑتے
    23. فَاِنِپھر اگر
    24. اعْتَزَلُوْكُمْتم سے کنارہ کش ہوں
    25. فَلَمْپھر نہ
    26. يُقَاتِلُوْكُمْوہ تم سے لڑیں
    27. وَاور
    28. اَلْقَوْاڈالیں
    29. اِلَيْكُمُتمہاری طرف
    30. السَّلَمَصلح
    31. فَمَا جَعَلتو نہیں دی
    32. اللّٰهُاللہ
    33. لَكُمْتمہارے لیے
    34. عَلَيْهِمْان پر
    35. سَبِيْلًاکوئی راہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
صرف وہ لوگ اس سے مستثنی ہیں جن کا تعلق کسی ایسی قوم سے ہو جن کے ساتھ تمہارا کوئی معاہدہ ہے۔ یا وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حال میں آئیں کہ نہ اپنے اندر تم سے لڑنے کی ہمت پا رہے ہیں نہ اپنی قوم ہی سے۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کو تم پر دلیر کردیتا تو وہ تم سے لڑتے۔ پس اگر وہ تم سے کنارہ کش رہیں، تم سے جنگ نہ کریں، تمہارے ساتھ صلح جویانہ رویہ رکھیں تو اللہ تم کو بھی ان کے خلاف کسی اقدام کی اجازت نہیں دیتا
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اِلَّا الَّذِيْنَ يَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۢ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَھُمْ مِّيْثَاقٌ اَوْ جَاۗءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُھُمْ اَنْ يُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ يُقَاتِلُوْا قَوْمَھُمْ ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَھُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوْكُمْ وَاَلْقَوْا اِلَيْكُمُ السَّلَمَ ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيْلًا۔ حَصِرَ حَصِراً ، کے معنی عاجز ہونا، تنگ ہونا، بےہمت ہونا، حصر الرجل ضاق صدرہ، اس کا سینہ تنگ ہوا، اس نے ہمت چھوڑ دی۔ " سلم " کے معنی انقیاد و اطاعت اور حوالگی و سپردگی کے ہیں۔ " القاء السلم " سے مراد کسی کے آگے سپر ڈال دینا، گھٹنے ٹیک دینا، سپر انداز ہونا اور اس سے صلح کی درخواست کرنا۔ اب یہ ان لوگوں کا حکم بیان ہورہا ہے جو مذکورہ بالا اخذ و قتل کے حکم سے مستثنی ہیں۔ یہ دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جو کسی ایسی قوم اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں جن کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ صلح ہے۔ ایسے لوگوں کی جان بخشی محض معاہدے کے احترام میں کی گئی۔ اس لیے کہ معاہدے کے قیام تک ان کے کسی فرد کو گرفتار یا قتل کرنا عہد شکنی ہوتی، عام اس سے کہ وہ کافر ہے یا منافق۔ دوسرے وہ لوگ جو اپنی کمزوری اور پست ہمتی کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے لیے تیار ہوں اور نہ مسلمانوں میں شامل ہو کر اپنی قوم سے جنگ کے لیے آمادہ ہوں ان کو مہلت دیے جانے کی یہ مصلحت واضح فرمائی کہ ایسے کمزور لوگوں کی طرف سے یہ غیر جانبداری کا رویہ بھی غنیمت ہے۔ آخر یہ بھی تو ہوسکتا تھا کہ ان کو جراءت دے دیتا تو یہ کھلم کھلا دشمن بن کر تم سے جنگ کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے تو جب تک یہ تم سے تعرض کرنے سے کنارہ کش رہیں، تم سے جنگ نہ کریں، تمہارے ساتھ صلح جویانہ روش رکھیں تم بھی ان کے خلاف کوئی اقدام نہ کرو۔