تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 10
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنَادَوْنَ لَمَقْتُ اللّٰهِ اَكْبَرُ مِنْ مَّقْتِكُمْ اَنْفُسَكُمْ اِذْ تُدْعَوْنَ اِلَى الْاِیْمَانِ فَتَكْفُرُوْنَ﴿10﴾
- اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْابیشک۔ جن لوگوں نے۔ کفر کیا
- يُنَادَوْنَوہ پکارے جائیں گے
- لَمَقْتُ اللّٰهِالبتہ اللہ کا بیزار ہونا
- اَكْبَرُبڑا
- مِنْسے
- مَّقْتِكُمْتمہارا بیزار ہونا
- اَنْفُسَكُمْاپنے تئیں
- اِذْجب
- تُدْعَوْنَتم بلائے جاتے تھے
- اِلَى الْاِيْمَانِایمان کی طرف
- فَتَكْفُرُوْنَتو تم کفر کرتے تھے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جنہوں نے کفر کیا ان کو منادی کی جائے گی کہ خدا کی بیزاری تم سے اس کی نسبت سے کہیں زیادہ رہی ہے جتنی تم کو اس وقت اپنے سے ہے جب کہ تم کو ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم کفر کرتے تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اصل صورت حال جس سے جھوٹی شفاعت پر تکیہ کرنے والوں کو سابقہ پیش آئے گا
یعنی یہ لوگ تو امید لگائے بیٹھے ہیں کہ ان کے سفارشی ان کو اللہ کے ہاں اونچے سے اونچے درجے دلوائیں گے لیکن وہاں ان کو منادی کے ذریعہ سے یہ آگاہی دی جائے گی کہ آج جتنا غم و غصہ تم کو اپنی بدبختی و محرومی اور اپنے لیڈروں کی کج اندیشی و ضلالت پر ہے اس سے زیادہ تمہارے حال پر غصہ و غضب خدا کو اس وقت تھا جب کہ تم کو رسول کے ذریعہ سے ایمان کی دعوت دی جاتی تھی اور تم نہایت رعونت کے ساتھ دعوت کو ٹھکراتے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ اب اپنی اس رعونت اور خدا کے اس غصہ و غضب کا انجام بھگتو اور اپنی بدبختی پر اپنے سر پیٹو۔ اب یہاں کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔ یہ جو کچھ تمہارے سامنے آیا ہے اللہ کی طرف سے اتمام حجت کے بعد آیا ہے اس وجہ سے تم اسی کے سزاوار ہو۔
’ اذ تدعون الی الایمان ‘ ظرف ہے ’ لمقت اللہ اکبر ‘ کا۔ ’ ایمان ‘ سے خاص طور پر توحید پر ایمان مراد ہے۔ اس لئے کہ خدا کے ہاں معتبر ایمان وہی ہے جو توحید کے ساتھ ہو۔ سورة زمر آیت 45 میں یہ بات بیان ہوچکی ہے کہ منکرین آخرت کو سب سے زیادہ چڑ توحید کی دعوت سے ہے۔ یہاں بھی آگے والی آیت میں وضاحت فرما دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ غصہ ان پر اس وجہ سے ہوگا کہ جب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی تو اس سے بد کتے اور شرک کو بڑی خوش دلی سے قبول کرتے۔ ذلکم بانہ اذا دعی اللہ وحدہ کفرتم ج وان یشرک بہ تومنوا ط فالحکم للہ العلی الکبیر ‘ (82) (یہ سب تمہیں اس وجہ سے پیش آیا کہ جب اللہ واحد کی دعوت دی جاتی تو تم اس کا انکار کرتے اور جب اس کے شریک ٹھہرائے جاتے تو تم مانتے تو اب تو فیصلہ خدائے بلندو عظیم ہی کے اختیار میں ہے)۔