تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 11
قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ﴿11﴾
- قَالُوْاوہ کہیں گے
- رَبَّنَآاے ہمارے رب
- اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِتو نے ہمیں مردہ رکھا۔ دو بار
- وَاَحْيَيْتَنَااور زندگی بخشی ہمیں
- اثْنَتَيْنِدو بار
- فَاعْتَرَفْنَاپس ہم نے اعتراف کرلیا
- بِذُنُوْبِنَااپنے گناہوں کا
- فَهَلْتو کیا
- اِلٰى خُرُوْجٍطرف ۔ نکلنا
- مِّنْ سَبِيْلٍکوئی سبیل
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ کہیں گے، اے ہمارے رب ! تو نے ہم کو دو بار موت دی اور دو بار زندگی دی تو ہم نے اپنے گناہوں کا اقرار کرلیا تو کیا یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
اقرار بعد از وقت
اس وقت یہ لوگ بڑی سعادت مندی اور بڑی صفائی کے ساتھ کہیں گے کہ اے رب، اب ہم اپنے تمام جرائم کا اقرار کرتے ہیں۔ ہمارے نزدیک مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا جانا ناممکن تھا اس وجہ سے ہم تیرے مواخذہ و محاسبہ سے بےخوف ہو کر تیرے رسول اور اس کی دعوت کا مذاق اڑاتے رہے لیکن اب تو نے ہمیں دو بار موت اور دو بار زندگی دے کر موت کے بعد کی زندگی کا اچھی طرح مشاہدہ کرا دیا تو کیا اب اس کی بھی کوئی سبیل ہے کہ اس دوزخ سے ہمیں نکلنا نصیب ہو کہ ہم ازسرنو دنیا میں جا کر ایمان اور عمل صالح کی زندگی بسر کریں ! دو بار موت، سے ایک تو وہ حالت موت مراد ہے جو اس دنیا میں وجود پذیر ہونے سے پہلے انسان پر طاری ہوتی ہے اور دوسری وہ موت ہے جس سے ہر زندہ کو لازماً دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اسی طرح زندگی ایک تو وہ ہے جو اس دنیا میں حاصل ہوتی ہے اور دوسری وہ جو قیامت کو حاصل ہوگی۔