تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 26
وَ قَالَ فِرْعَوْنُ ذَرُوْنِیْۤ اَقْتُلْ مُوْسٰى وَ لْیَدْعُ رَبَّهٗ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّبَدِّلَ دِیْنَكُمْ اَوْ اَنْ یُّظْهِرَ فِی الْاَرْضِ الْفَسَادَ﴿26﴾
- وَقَالَاور کہا
- فِرْعَوْنُفرعون
- ذَرُوْنِيْٓمجھے چھوڑدو
- اَقْتُلْمیں قتل کروں
- مُوْسٰىموسیٰ
- وَلْيَدْعُاور اسے پکارنے دو
- رَبَّهٗ ۚاپنے رب کو
- اِنِّىْٓ اَخَافُبیشک میں ڈرتا ہوں
- اَنْکہ
- يُّبَدِّلَوہ بدل دے
- دِيْنَكُمْتمہارا دین
- اَوْ اَنْیا ۔ یہ کہ
- يُّظْهِرَظاہر کردے (پھیلادے)
- فِي الْاَرْضِزمین میں
- الْفَسَادَفساد
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور فرعون نے کہا، مجھے چھوڑو، میں موسیٰ کو قتل کئے دیتا ہوں اور وہ اپنے رب کو پکارے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں وہ تمہارا دین نہ بدل ڈالے یا ملک میں بغاوت نہ پھیلا دے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرعون اور اس کے اعیان کی بدحواسی
اپنی اسکیم کی ناکامی اور حضرت موسیٰ ؑ کے اس مطالبہ سے فرعون اور اس کے اعیان بالکل حواس باختہ ہوگئے۔ اس حواس باختگی کے عالم میں فرعون نے اپنے درباریوں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ مجھے اجازت دیجئے کہ میں موسیٰ ؑ کو قتل کر دوں۔ اگر اس کا کوئی خدا ہے جس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو وہ اپنی مدد کے لئے اس کو بلائے۔ اپنی اس تجویز کی تائید میں اس نے دلیل یہ پیش کی کہ اگر اب موسیٰ ؑ کو مزید مہلت دی گئی تو مجھے ڈر ہے کہ وہ یا تو آپ لوگوں کے دین کو بدل کے رکھ دے گا یا ملک میں بغاوت کرا دے گا۔ یہ امر واضح رہے کہ فرعون اپنی قوم والوں کے نزدیک سورج دیوتا کا مظہر سمجھا جاتا تھا اور اس کی حیثیت ایک اوتار بادشاہ کی تھی۔ اس وجہ سے حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت توحید کی زد براہ راست اس کی خدائی پر پڑتی تھی۔ اگر قبطی اس کو قبول کرلیتے تو ان کا دین بدلتا اور اگر نہ قبول کرتے اور بنی اسرائیل حضرت موسیٰ کی قیادت میں منظم ہوجاتے تو اس کا لازمی نتیجہ (فرعون کے خیال کے مطابق) یہ تھا کہ ملک میں بغاوت پھوٹ پڑے گی۔ ان خطرات کی بنا پر اس نے قوم کے اعیان سے حضرت موسیٰ ؑ کے قتل کی اجازت مانگی۔ لفظ ذرونی سے یہ بات صاف نکلتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اور ان کی دعوت نے اس دور میں اتنی قوت حاصل کرلی تھی کہ فرعون جیسے مطلق العنان کے لئے بھی اپنے اعیان کی تائید کے بغیر ان پر ہاتھ ڈالنا ممکن نہیں رہ گیا تھا۔