Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 27

  1. وَ قَالَ مُوْسٰۤى اِنِّیْ عُذْتُ بِرَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ مِّنْ كُلِّ مُتَكَبِّرٍ لَّا یُؤْمِنُ بِیَوْمِ الْحِسَابِ۠ع﴿27﴾

    1. وَقَالَاور کہا
    2. مُوْسٰٓىموسیٰ
    3. اِنِّىْ عُذْتُبیشک میں نے پناہ لے لی
    4. بِرَبِّيْاپنے رب کی
    5. وَرَبِّكُمْاور تمہارے رب کی
    6. مِّنْسے
    7. كُلِّ مُتَكَبِّرٍہر مغرور
    8. لَّا يُؤْمِنُ(جو) ایمان نہیں رکھتا
    9. بِيَوْمِ الْحِسَابِروز حساب پر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور موسیٰ نے کہا میں نے اپنے اور تمہارے رب کی پناہ لی ہر اس متکبر کے شر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
حضرت موسیٰ کا رویہ حضرت موسیٰ ؑ کو فرعون کے اس ارادہ کی اطلاع ہوئی تو انہوں نے اپنا معاملہ اپنے رب کے حوالے کیا کہ میں ہر اس متکبر کے شر سے جو روز حساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے اور تمہارے رب کی پناہ مانگتا ہوں۔ تمہارے رب، کے الفاظ یہاں بطور تذکیر و تنبیہ ہیں یعنی یاد رکھو کہ وہی تمہارا بھی رب ہے، اس کے سوا کوئی اور رب نہیں ہے جس کے بل پر کوئی کچھ کرسکے۔ ’ من کل متکبر لا یومن بیوم الحساب ‘۔ تکبر درحقیقت حق سے اعراض کا نام ہے جو نتیجہ ہے انانیت و خود پرستی کا اور یہ چیز پیدا ہوتی ہے آخرت پر ایمان نہ ہونے سے۔ جو شخص آخرت کو نہیں مانتا وہ ایک مطلق العنان ہے۔ وہ جو کچھ بھی کر گزرے اس سے بعید نہیں۔