تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 39
یٰقَوْمِ اِنَّمَا هٰذِهِ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا مَتَاعٌ١٘ وَّ اِنَّ الْاٰخِرَةَ هِیَ دَارُ الْقَرَارِ﴿39﴾
- يٰقَوْمِاے میری قوم
- اِنَّمَااس کے سوا نہیں
- هٰذِهِیہ
- الْحَيٰوةُ الدُّنْيَادنیا کی زندگی
- مَتَاعٌ ۡتھوڑا (فائدہ)
- وَّاِنَّ الْاٰخِرَةَاور بیشک آخرت
- هِىَیہ
- دَارُ الْقَرَارِ(ہمیشہ) رہنے کا گھر
Translation · Tadabbur-e-Quran
اے میری قوم، یہ دنیا کی زندگی تو متاع چند روزہ ہے۔ اصل دارالقرار تو آخرت ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
آخر کی یاد دہانی
انہوں نے فرعون کو چیلنج تو کردیا لیکن دنیوی لیڈروں کی طرح اپنی جمعیت و اکثریت کا رعب نہیں جمایا بلکہ انبیائے کرام کے طریقہ پر لوگوں کو آخرت کی یاد دہانی کی کہ اس دنیا کی زندگی اور اس کا تمام عیش و آرام چند روزہ ہے، اصل قیام کا گھر آخرت ہے تو اس چند روزہ عیش کی خاطر ابدی زندگی تباہ نہیں کرنی چاہئے۔