Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 4

  1. مَا یُجَادِلُ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَلَا یَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِی الْبِلَادِ﴿4﴾

    1. مَا يُجَادِلُوہ نہیں جھگڑتے
    2. فِيْٓمیں
    3. اٰيٰتِ اللّٰهِاللہ کی آیات
    4. اِلَّامگر
    5. الَّذِيْنَ كَفَرُوْاوہ لوگ جنہوں نے کفر کیا
    6. فَلَا يَغْرُرْكَسو تمہیں دھوکہ میں ڈال دے
    7. تَقَلُّبُهُمْان کا چلنا پھرنا
    8. فِي الْبِلَادِشہروں میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اللہ کی ان آیات میں وہی لوگ کج بحثیاں کر رہے ہیں جو جزا کے منکر ہیں۔ تو ملک میں ان کا دندنانا تمہیں کسی مغالطہ میں نہ ڈالے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ما یجادل فی اٰیت اللہ الا الذین کفروا فلا یغدرک تقلبھم فی البلاد (4) ’ آیت اللہ ‘ سے مراد اس کتاب کی آیات ہیں جس کی تنزیل کا ذکر اوپر آیت 2 میں ہوا ہے۔ یہاں اس کو ’ ایت اللہ ‘ سے تعبیر کر کے اس کے دلیل حجت ہونے کے پہلو کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ ’ الذین کفروا ‘ سے یہاں وہ لوگ مراد ہیں جو اس عذاب کے منکر تھے جس سے قرآن آگاہ کر رہا تھا۔ قرآن میں جگہ جگہ یہ بات گزر چکی ہے کہ اللہ کے رسولوں نے جب اپنی قوموں کو خدا کے عذاب سے ڈرایا تو انہوں نے اس کو بالکل جھوٹ جانا اور اپنی دنیوی کامیابیوں کو دلیل بنا کر رسول کے اس انذار کی تکذیب کی اور اس کا مذاق اڑایا۔ انذار کی تکذیب کرنے والوں کو تنبیہ اس آیت میں اسی چیز کی طرف اشارہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے واسطہ سے مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ آج قرآن کی مخالفت میں جو کج بحثیاں کر رہے ہیں یہ وہی لوگ ہیں جو اس کے انذارِ عذاب کے منکر ہیں۔ ان کے کبر پر یہ چیز بہت شاق گزر رہی ہے کہ انہوں نے اس کتاب اور اس کے لانے والے کا انکار کیا تو ان پر کوئی عذاب آجائے گا۔ وہ یہ بات اپنی رعونت کے سبب سے ماننی نہیں چاہتے اور ظاہری حالات کے اعتبار سے وہ اپنے کو کامیاب و خوش حال دیکھ رہے ہیں س وجہ سے وہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن ان کی موجودہ خوش حالی سے کسی کو مغالطہ نہ ہو۔ تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کتنی ہی قوموں کو عین ان کے دور عروج و اقبال میں پکڑ لیا اور وہ اس کی پکڑ سے اپنے کو بچا نہ سکیں۔ ’ فلا یغدرک تقلبھم فی البلاد ‘ میں خطاب اگرچہ، ظاہر الفاظ کے اعتبار سے آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اس میں جو زجر و عتاب ہے اس کا رخ قریش کے متکبرین کی طرف ہے جو اپنے اقتدار اور اپنی سیادت و امارت کے گھمنڈ میں یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ ان پر کوئی عذاب آنے والا ہے۔ وہ قرآن کی بار بار کی تنبیہ پر حیران تھے کہ بھلا ان پر عذاب کیوں اور کدھر سے آئے گا ! ’ تقلب ‘ کے معنی چلت پھرت اور آزادانہ آمد و شد کے ہیں۔ موقع و محل سے اس کے اندر غرور وتکبر کا مفہوم بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھنے کی میں نے کوشش کی ہے۔