Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 45

  1. فَوَقٰىهُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِ مَا مَكَرُوْا وَ حَاقَ بِاٰلِ فِرْعَوْنَ سُوْٓءُ الْعَذَابِۚ﴿45﴾

    1. فَوَقٰىهُسو اسے بچالیا
    2. اللّٰهُاللہ نے
    3. سَيِّاٰتِبُرے
    4. مَا مَكَرُوْاداؤ جو وہ کرتے تھے
    5. وَحَاقَاور گھیر لیا
    6. بِاٰلِ فِرْعَوْنَفرعون والوں کو
    7. سُوْٓءُ الْعَذَابِبُرا عذاب
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اللہ نے اس کو ان کی چالوں کی آفتوں سے محفوظ رکھا اور فرعون والوں کو میرے عذاب نے گھیر لیا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فرعون اور اس کے اعیان کی سازشوں کی ناکامی اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اس تقریر کے بعد فرعون اور اس کے تمام اعیان ان کے دشمن بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور ان کے خلاف طرح طرح کی سازشوں میں لگ گئے کہ کسی طرح ان کو اپنے دین میں واپس لائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کی سازشوں کے شر سے ان کو محفوظ رکھ۔ اس سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہوتی ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے جو سازشیں ان کو دین حق سے پھیرنے کے لئے کیں ان میں کوئی کامیابی ان کو نہیں ہوئی۔ اسی طرح اللہ کے جو بندے حق کا اعلان کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے دین و ایمان کی حفاظت فرماتا ہے۔ فرعون اور اس کے اتباع کا انجام ’ وحاق بال فرعون سوٓء العذاب ‘۔ ’ ال فرعون ‘ سے ظاہر ہے کہ یہاں اس کے آل و اتباع سب مراد ہیں۔ فرمایا کہ بندہ مومن کو تو اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کے شر سے محفوظ رکھا البتہ فرعون اور اس کے اتباع کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ ’ برے عذاب ‘ سے مراد وہ فیصلہ کن عذاب ہے جس نے فرعون اور اس کی ساری فوجوں کو غرق کردیا۔ اس کو برے عذاب سے تعبیر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کے دوران میں متعدد عذاب اہل مصر پر آئے لیکن یہ عذاب تنبیہ و تذکیر کے لئے تھے جن میں مومن و کافر دونوں ہی آزمائے گئے لیکن یہ آخری عذاب جو آیا تو اس سے مومن تو محفوظ رکھے گئے لیکن فرعون اور اس کی نسل کی اس نے جڑ کاٹ دی۔ لفظ ’ حان ‘ اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ اس عذاب نے اس طرح ان کو اپنے احاطہ میں لے لیا کہ ان کے لئے کوئی مفر باقی نہیں رہا۔