تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 40. Al-Ghaafir · Ayah 53
وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْهُدٰى وَ اَوْرَثْنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ الْكِتٰبَۙ﴿53﴾
- وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور تحقیق ہم نے دی
- مُوْسَىموسیٰ
- الْهُدٰىہدایت
- وَاَوْرَثْنَااور ہم نے وارث بنایا
- بَنِيْٓ اِسْرَآءِيْلَبنی اسرائیل
- الْكِتٰبَکتاب (توریت)
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے موسیٰ ؑ کو ہدایت عطا فرمائی اور نبی اسرائیل کو کتاب کا وارث بنایا ،
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وعدہ نصرت کی وضاحت
یہ وضاحت ہے اس نصرت کی جس کا ذکر اوپر ہوا کہ فرعون اور اس کے آل و اتباع تو اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار ہوئے اور موسیٰ ؑ اور ان پر ایمان لانے والے نبی اسرائیل، ہدایت اور کتاب الٰہی کی وراثت سے نوازے گئے۔
’ واورثنا بنی اسرآئیل الکتب ‘ کے اندر اس دنیا میں غلبہ و تمکن کا وعدہ خود مضمر ہے اس لئے کہ کتاب احکام و قوانین الٰہی کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ جس ملت کو یہ عطا ہو اس کو زمین میں غلبہ و تمکن بھی حاصل ہو۔ چناچہ بنی اسرائیل کو یہ چیز حاصل رہی جب تک وہ اپنی کتاب پر عامل رہے۔
’ ھدی و ذکری لاولی الالباب ‘۔ یہ کتاب کا مقصد بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اس لئے دی کہ یہ لوگوں کو اللہ کی طرف رہنمائی اور اس کی باتوں کی یاددہانی کرتی رہے لیکن یہ فائدہ وہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جن کے اندر عقل و بصیرت ہے۔ جو لوگ عقل و بصیرت سے محروم ہوجاتے ہیں ان کے لئے کوئی چیز بھی نافع نہیں ہوتی۔ اس میں تعریض ہے ان بنی اسرائیل پر جنہوں نے اپنی ضلالت پسندی و بےعقلی کے سبب سے اپنے کو اس کتاب کی روشنی سے محروم کرلیا۔