تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 13
فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَقُلْ اَنْذَرْتُكُمْ صٰعِقَةً مِّثْلَ صٰعِقَةِ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَؕ﴿13﴾
- فَاِنْپھر اگر
- اَعْرَضُوْاوہ منہ موڑلیں
- فَقُلْتو فرمادیں
- اَنْذَرْتُكُمْمیں ڈراتا ہوں تمہیں
- صٰعِقَةًایک چنگھاڑ
- مِّثْلَ صٰعِقَةِجیسی چنگھاڑ
- عَادٍعاد
- وَّثَمُوْدَاور ثمود
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اگر وہ اعراض کرتے ہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں تمہیں اس طرح کے کڑکے سے آگاہ کرتا ہوں جس طرح کا کڑ عاد اور ثمود پر نازل ہوا۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
2۔ آگے کا مضمون… آیات : 13۔ 24
آگے قریش کی تنبیہ کے لئے اس رسوا کن انجام کی بعض تاریخی مثالوں کا ذکر فرمایا ہے جس سے رسولوں کے مکذبین کو لازماً سابقہ پیش آنا ہے۔ نظم کلام بالکل واضح ہے۔ آیات کی تلاوت فرمائیے۔
3۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
قریش کے اعراض کا ذکر اوپر آیات 4۔ 5 میں گزر چکا ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے اعراض ہی کا فیصلہ کرلیا ہے تو ان کو آگاہ کر دو کہ اگر تمہارا فیصلہ یہی ہے تو میں تم کو اسی طرح کے کڑکے کے عذاب سے ڈراتا ہوں جس طرح کا عذاب عاد اور ثمور اور ان کی ہم مشرب دوسری قوموں پر آیا۔ یہاں اسلوب بیان سے واضح ہے کہ عاد اور ثمور کا ذکر محض بطور مثال بیان ہوا ہے۔ مقصود ان تمام قوموں کے انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے جو رسولوں کی تکذیب کی پاداش میں ہلاک ہوئیں اور جن کا ذکر پچھلی سورتوں میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
’ صاعقۃ ‘ کا ذکر بطور عذاب کی ایک نمایاں علامت کے
’ صاعقۃ ‘ کا ذکر اس عذاب کی ایک نمایاں علامت کے طور پر ہوا ہے جس سے یہ قومیں ہلاک ہوئیں۔ دوسرے مقام میں ہم تفصیل سے واضح کرچکے ہیں کہ ان قوموں پر جو عذاب آیا وہ شمال کی باد تند، ژالہ باری اور ہولناک رعد و برق کا مجموعہ تھا۔ چناچہ قرآن میں اس کی تعبیر مختلف الفاظ سے ہوئی ہے۔ یہاں اس کے ایک نمایاں وصف ’ صاعقۃ ‘ سے اس کا ذکر فرمایا لیکن مقصود اس کے ان تمام لوازم کی طرف اشارہ کرنا ہے جو دوسرے مقامات میں مذکور ہوئے ہیں اور ان میں بعض کا ذکر یہاں بھی آگے آ رہا ہے۔