Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 12

  1. فَقَضٰىهُنَّ سَبْعَ سَمٰوَاتٍ فِیْ یَوْمَیْنِ وَ اَوْحٰى فِیْ كُلِّ سَمَآءٍ اَمْرَهَا١ؕ وَ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ١ۖۗ وَ حِفْظًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ﴿12﴾

    1. فَقَضٰهُنَّپھر اس نے بنائے
    2. سَبْعَسات
    3. سَمٰوَاتٍآسمان
    4. فِيْ يَوْمَيْنِدو دنوں میں
    5. وَاَوْحٰىاور وحی کردی
    6. فِيْمیں، کو
    7. كُلِّ سَمَآءٍہر آسمان
    8. اَمْرَهَا ۭاس کا کام
    9. وَزَيَّنَّااور ہم نے زینت دی
    10. السَّمَآءَ الدُّنْيَاآسمانِ دنیا
    11. بِمَصَابِيْحَ ڰچراغوں (ستاروں) سے
    12. وَحِفْظًا ۭاور حفاظت کیلئے
    13. ذٰلِكَ تَقْدِيْرُیہ اندازہ (فیصلہ)
    14. الْعَزِيْزِغالب
    15. الْعَلِيْمِعلم والا
Translation · Tadabbur-e-Quran
وہ بولے کہ ہم رضامندانہ حاضر ہیں۔ پس ان کے سات آسمان ہونے کا فیصلہ فرمایا دو دنوں میں۔ اور ہر آسمان میں اس کے متعلقہ فرائض وحی کردیئے اور ہم نے آسمان زیریں کو چراغوں سے سنوارا اور اس کو اچھی طرح محفوظ کیا۔ یہ خدائے عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ساتوں آسمانوں کی تکمیل اس سے معلوم ہوا کہ جس وقت آسمان کی طرف توجہ فرمائی ہے اس قت ساتوں آسمانوں کا ہیولیٰ تو موجود تھا اگرچہ ابھی وہ تکمیل عمل (INISNING TOUCH) کا محتاج تھا۔ اس کا اشارہ جمع کی ضمیر اور بعد کے قرائن سے نکلتا ہے۔ فرمایا کہ بس ان کا فیصلہ فرما دیا کہ وہ سات آسمان بن جائیں۔ ’ وادحی فی کل سماء امرھا ‘ اور ان میں سے ہر آسمان کی اس کائنات کے مجموعی نظام میں جو ڈیوٹی ہے وہ اس کو وحی فرمائی۔ ’ وزینا السمآء الدنیا بمصابیع ‘ اور آسمان زیریں کو ستاروں کے قمقموں سے سجایا۔ یہاں اسلوب کی یہ تبدیلی ملحوظ رہے کہ اوپر کی باتیں غائب کے اسلوب میں ہیں اور یہ بات متکلم کے اسلوب میں۔ اسلوب کی اس تبدیلی کی بلاغت کی طرف اس کے محل میں ہم اشارہ کرچکے ہیں۔ ’ وحفظا ‘ یہ مصدر فعل کی تاکید کے لئے ہے یعنی اس آسمان زیریں کو شیاطین جن کی در اندازیوں سے اچھی طرح محفوظ کیا۔ اس کی وضاحت اس کتاب کے متعدد مقامات میں ہوچکی ہے اور آگے سورة جن کی تفسیر میں اس کی مزید تفصیل انشاء اللہ آئے۔ یہ سارے کام دونوں میں تکمیل کو پہنچے اور مجموعی طور پر یہ کل چھ دن ہوئے۔ یہ اس اجمال کی تفصیل ہوگئی جو آسمان و زمین کی خلقت سے متعلق قرآن کے دوسرے مقامات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ ساری تفصیل کا خلاصہ ’ ذلک تقدیر العزیز العلیم ‘۔ یہ ساری تفصیل کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ جو شخص اس کارخانہ کائنات پر غور کرے گا وہ پکار اٹھے گا کہ یہ ایک عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی کا کرشمہ ہے۔ یعنی یہ کوئی اتفاقی حادثہ کے طور پر ظہور میں آجانے والی چیز نہیں ہے بلکہ اس کے اندر نہایت حکیمانہ پلاننگ ہے اور یہ پلاننگ ایک ایسی ہستی کی ہوئی ہے جو ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے۔ کوئی چیز بھی اس کے حیطہ اقتدار سے باہر نہیں ہے۔ ساتھ ہی اس کا علم محیط کل ہے کہ اس کائنات کے بعید سے بعید گوشوں کی ہر چیز سے بھی وہ باخبر، اس کی ضروریات سے واقف اور اس کائنات کے مجموعی نظام میں اس کا جو مصرف ہے اس سے اچھی طرح آگاہ ہے۔ اس خلاصہ کو سامنے رکھتے ہوئے اب ابتداء کے سوال ائنکم لتکفرون بالذی… الآیۃ، کو اس کے ساتھ ملائیے تو گویا پوری بات یوں ہوگی کہ یہ کائنات اپنے وجود سے تو اس بات کی شہادت دے رہی ہے کہ یہ ایک عزیز وعلیم کی بنائی ہوئی اور اسی کے تصرف میں ہے لیکن تمہاری جہالت کا یہ عالم ہے کہ بہت سے فرضی دیویوں دیوتائوں کو اس کا شریک مان کر تم اس کا انکار کر رہے ہو۔ اس بات کو سوال کی صورت میں تعجب و کراہیت کے اظہار کے لئے رکھا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس قسم کی حماقت کے لئے کوئی وجہ جواز تو نہیں ہے لیکن جب عقل الٹ جاتی ہے تو انسان سے کوئی حماقت بھی بعید نہیں رہ جاتی۔ ان آیات کی تعلیم ان آیات سے جو تعلیم نکلتی ہے اگرچہ آیات کی وضاحت کرتے ہوئے اس کی طرف ہم اشارہ کرتے آ رہے ہیں لیکن چونکہ اس کا تعلق دین کی بنیادی حکمت سے ہے اس وجہ سے آخر میں ہم اس کی پھر یاد دہانی کئے دیتے ہیں۔ پہلی بات یہ نکلتی ہے کہ یہ دنیا نہایت تدریج و اہتمام کے ساتھ ایک طے کردہ پروگرام کے مطابق وجود میں آئی ہے۔ یہ خیال بالکل غلط ہے کہ اس کو کسی نے بس یوں ہی کھیل تماشے کے طور پر بنایا ہے اور یہ یوں ہی چلتی رہے گی یا یوں ہی ختم ہوجائے گی۔ یہ اہتمام اس کے بامقصد و باغایت ہونے کی ناقابل انکار دلیل ہے اور اس بات کا باغایت و بامقصد ہونا لازماً آخرت کو مقتضی ہے۔ دوسری یہ کہ اس کا خالق بےنہایت قدرت اور غیر محدود علم کا مالک ہے اس وجہ سے اس کام میں نہ اس کو کسی کی مدد کی ضرورت ہوئی اور نہ کوئی اس کی مدد کرسکنے کا اہل ہے۔ تیسری یہ کہ آسمان و زمین دونوں نے مل کر ایک مکان کی شکل اختیار کی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو فروکش کیا ہے اس وجہ سے یہ خیال بالبداہت غلط ہے کہ اس کی چھت پر کسی اور کا تصرف ہے اور اس کے فرش کا کوئی اور مالک ہے بلکہ آسمان و زمین دونوں کی سازگاری اس بات کی دلیل ہے کہ جس عزیز وعلیم نے ان کو پیدا کیا ہے وہی ان پر متصرف بھی ہے۔ چوتھی یہ کہ اس دنیا میں ربوبیت کا جو ہمہ گیر نظام ہے۔ وہ اس بات پر شاہد ہے کہ یہ خدائے عزیز وعلیم ہی کا قائم کیا ہوا ہے، کوئی دوسرا اس نظام کو قائم کرنے پر قادر نہیں ہے اس وجہ سے بندوں کو چاہئے کہ اسی کے آگے دست سوال دراز کریں اس لئے کہ حقیقی نافع و ضار وہی ہے۔ پانچویں یہ کہ ربوبیت کا یہ وسیع نظام اس بات کا مقتضی ہے کہ ایک ایسا دن آئے جس میں لوگ اپنے منعم حقیقی کے روبرو حاضر ہوں۔ ان سے نعمتوں کے حق سے متعلق پرسش ہو۔ جنہوں نے ان کا حق پہچانا ہو وہ اس کا صلہ پائیں اور جنہوں نے ناشکری کی ہو وہ اس کی سزا بھگتیں۔