تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 25
وَ قَیَّضْنَا لَهُمْ قُرَنَآءَ فَزَیَّنُوْا لَهُمْ مَّا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ فِیْۤ اُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۚ اِنَّهُمْ كَانُوْا خٰسِرِیْنَ۠ع﴿25﴾
- وَقَيَّضْنَااور ہم نے مقرر کئے
- لَهُمْ قُرَنَآءَان کیلئے کچھ ہم نشین
- فَزَيَّنُوْاتو انہوں نے آراستہ کردکھایا
- لَهُمْان کے لئے
- مَّاجو
- بَيْنَ اَيْدِيْهِمْان کے آگے
- وَمَااور جو
- خَلْفَهُمْان کے پیچھے
- وَحَقَّاور پوری ہوگئی
- عَلَيْهِمُان پر
- الْقَوْلُبات
- فِيْٓ اُمَمٍان امتوں میں
- قَدْ خَلَتْجو گزرچکیں
- مِنْ قَبْلِهِمْان سے قبل
- مِّنَ الْجِنِّجنات میں سے، کی
- وَالْاِنْسِ ۚاور انسان
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاتھے
- خٰسِرِيْنَخسارہ پانے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے ان پر برے ساتھی مسلط کردیئے تو انہوں نے ان کے آگے اور پیچھے کی ہر چیز ان کو خوشنما بنا کر دکھائی، بالآخر ان پر بھی وہی بات پوری ہو کے رہی جو جنوں اور انسانوں کے ان گروہوں پر پوری ہوئی جو ان سے پہلے گزر چکے تھے۔ وہ نامراد ہونے والوں میں سے بنے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
4۔ آگے کا مضمون … آیات : 5 2۔ 36
قیامت کے دن کفر کے سرغنوں اور ان کے پیروئوں کا جو حال ہوگا پہلے اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ آج تو قرآن کی مخالفت کے لئے انہوں نے آپس میں بڑا گٹھ جوڑ کر رکھا ہے لیکن جب اس کا انجام سامنے آئے گا۔ تو وہ ایک دوسرے کے ایسے جانی دشمن بن جائیں گے کہ عوام اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ ان کے لیڈران کو دکھا دیئے جائیں کہ وہ ان کو اپنے قدموں سے روند ڈالیں۔
اس کے بعد ان لوگوں کا حال بیان ہوا ہے جو ان تمام غوغا آرائیوں کے علی الرغم توحید پر ثابت قدم رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ کے ملائکہ ان کے پاس بشارت لے کر آئیں گے کہ اب آپ کی آزمائشوں کا دور ختم ہوگیا۔ آگے اب آپ لوگوں کے لئے ابدی بادشاہی کی جنت ہے۔
اسی ذیل میں نبی ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ سب سے زیادہ مبارک دعوت تم لے کر آئے ہو۔ اگر تمہارے نادان مخالفین اس کی قدر نہیں کر رہے ہیں، اس کو گوش دل سے سننے کے بجائے، اس میں گڑبڑ پیدا کرنی چاہتے ہیں تو تم ان کی ان بدتمیزیوں کا مقابلہ عفو و درگزر سے کرو۔ تمہاری یہی کریمانہ روش تمہاری دعوت کے لئے موجب خیر و برکت ہو گی… آیات کی تلاوت کیجیے۔
5۔ الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
وقیضتا لھم قرنآء فزینوالھم مابین ایدیھم وما خلفھم و حق علیھم القول فی امم قدخلت من قبلھم من الجن والانسج انھم کانوا خسرین (25)
اللہ کی یاددہانی سے اعراض کا انجام
یعنی ان لوگوں کے اس انجام سے دوچار ہونے کا سبب یہ ہوا کہ انہوں نے اللہ کی یاددہانی سے اعراض کیا اور اس کے رسولوں کی تعلیم پر کان دھرنے کے بجائے اس کی ناقدری کی۔ اس کی سزا اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دی کہ ان پر نہایت برے لیڈر مسلط کردیئے جنہوں نے ان کو خوب خوب سبز باغ دکھائے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ عذاب ان کے بارے میں بھی پورا ہو کے رہا جو ان سے پہلے گزرنے والے نافرمانی قوموں پر پورا ہوا۔
’ وقیضنا لھم قرناء ‘ میں اس سنت الٰہی کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر سورة زخرف میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے۔ ومن یعش عن ذکر الرحمن نقبض لہ شیطنا فھولہ قرین (الخروف :26) (اور جو اللہ کی تذکیر سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے) یہ شیطان جنوں میں سے بھی ہوتے ہیں اور انسانوں میں سے بھی اور جب کوئی قوم اپنی خدا فراموشی کے سبب سے ایسے شیطانوں کو اپنے اوپر مسلط کرلیتی ہے تو پھر یہ شیاطین اس کی جان اس وقت تک نہیں چھوڑتے جب تک اس کو عذاب الٰہی میں گرفتار نہ کرا لیں۔
فزینوا لھم مابین ایدیھم وما خلفھم یعنی وہ قوم کے ماضی و حاضر کو اس طرح مزین کر کے اس کے آگے پیش کرتے ہیں کہ اس کو اپنے اعمال و کردار اور عقائد و نظریات میں کسی پہول سے کوئی خلا نظر نہ آئے تاکہ انبیاء اور مصلحین کی تذکیر و تنبیہ سے بالکل بےپروا ہو کر وہ اسی راہ پر چلتی رہے جس پر وہ اس کو چلانا چاہتے ہیں۔
وحق علیھم القول میں القول سے مراد عذاب الٰہی کی وہ دھمکی ہے جو اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں کو دی اور جو ان تمام قوموں پر پوری ہوئی جنہوں نے رسولوں کی تکذیب کی۔ ان میں سے قوموں کے عذاب کا اجمالی حوالہ اوپر اس سورة میں بھی گزر چکا ہے۔