Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 27

  1. فَلَنُذِیْقَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَذَابًا شَدِیْدًا١ۙ وَّ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَسْوَاَ الَّذِیْ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴿27﴾

    1. فَلَنُذِيْقَنَّپس ہم ضرور چکھائیں گے
    2. الَّذِيْنَان لوگوں کو جنہوں نے
    3. كَفَرُوْاکفر کیا (کافر)
    4. عَذَابًا شَدِيْدًا ۙعذاب سخت
    5. وَّلَنَجْزِيَنَّهُماور ہم انہیں ضرور بدلہ دیں گے
    6. ْاَسْوَاَبدترین
    7. الَّذِيْوہ جو
    8. كَانُوْا يَعْمَلُوْنَوہ کرتے تھے (اعمال)
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس ہم ان کافروں کو سخت عذاب چکھائیں گے اور ان کو ان کے عمل کا بدترین صلہ دیں گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فلنذیقن الذین کفروا عذاباً شدیدا ولنجزینھم اسوا الذین کانوا یعملون (27) فرمایا کہ یہ جو کچھ کرنا چاہتے ہیں کرلیں ہم بھی ان کی ان حرکتوں کی پاداش میں ایک عذاب شدید کا مزا ان کو چکھائیں گے۔ اور ان کے اعمال کا وہ بدترین پہلو ان کے سامنے لائیں گے جن کا ان کو ابھی کوئی اندازہ نہیں ہے۔ اعمال کے اثرات کا صحیح اندازہ آخرت ہی میں ہو گا یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ اس دنیا میں انسان اپنے اعمال کے اثرات و نتائج کا صحیح ادنازہ نہیں کرسکتا۔ انسان کا ہر عمل، خواہ وہ نیک ہو یا بد، اپنے اندر متعدی اثرات رکھتا ہے۔ اپنی اس صفت کے سبب سے بعض حالات میں انسان کی ایک چھوٹی سی نیکی بڑھتے بڑھتے احد پہاڑ کے برابر بن جاتی ہے۔ اسی طرح ایک بڑائی جو اپنے ابتدائی مرحلے میں معمولی نظر آتی ہے آہستہ آہستہ ایک خوفناک جنگل بن جاتی ہے۔ قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر کے قتل ناحق کی جو طرح ڈالی وہ ایک ایسی متعدی برائی نکلی کہ دنیا کے ہر قتل ناحق میں سے ایک حصہ برابر اس کے کھاتے میں بھی جمع ہو رہا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب قیامت میں ہر شخص کے سامنے اس کے اعمال کے نتائج آئیں گے تب ہی وہ صحیح صحیح اندازہ کرسکے گا کہ اس کی فلاں برائی کس درجہ کی برائی تھی۔ اسی حقیقت کی طرف ہیاں ولمجزینھم اسوالذین کانوا یعملون کے الفاظ سے اشارہ فرمایا ہے کہ ابھی ان نادانوں کو اندازہ نہیں ہے کہ قرآن سے لوگوں کو روک کر اور اس میں گھپلا پیدا کر کے یہ اپنے لیے کیسی بس بھری فصل تیار کر رہے ہیں جب اس کا پورا حاصل ان کے سامنے آئے گا تب وہ اس کا بدترین پہلو (اسواء) دیکھیں گے اور اس وقت انہیں اندازہ ہوگا کہ اپنی تباہی کا کیا سامان کر کے وہ آئے ہیں۔