تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 28
ذٰلِكَ جَزَآءُ اَعْدَآءِ اللّٰهِ النَّارُ١ۚ لَهُمْ فِیْهَا دَارُ الْخُلْدِ١ؕ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ﴿28﴾
- ذٰلِكَیہ
- جَزَآءُبدلہ
- اَعْدَآءِ اللّٰهِاللہ کے دشمن (جمع)
- النَّارُ ۚجہنم
- لَهُمْان کے لئے
- فِيْهَااس میں
- دَارُ الْخُلْدِ ۭہمیشگی کا گھر
- جَزَآءًۢبدلہ
- بِمَااس کا جو
- كَانُوْاوہ تھے
- بِاٰيٰتِنَاہماری آیتوں کا
- يَجْحَدُوْنَانکار کرتے
Translation · Tadabbur-e-Quran
یہ اللہ کے دشمنوں کا بدلہ ہے : یعنی دوزخ ! ان کے لئے اسی میں ہمیشگی کا ٹھکانہ ہوگا، بدلے میں اس بات کے کہ وہ ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ذلک جزآء عدآء اللہ النار، لھم فیھا دارالخلد ط جزآء بما کانوا بایتنا یعجدون (28)
ذلک کا اشارہ اسی بدترین جزاء (جزاء اسواء) کی طرف ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ اعدآء اللہ، سے مراد یہاں قرینہ دلیل ہے کہ قریش کے وہی لیڈر ہیں جو اپنے گنڈوں کے ذریعہ سے قرآن کی دعوت دبا دینے کے در پے تھے۔ النار مستقل جملہ ہے۔ خبر پر زور دینے کے لئے اس میں مبتداء کو حذف کردیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ جزا جو بیان ہوئی ہے ان لوگوں کے سامنے آئے گی جو آج اللہ اور اس کے دین کے دشمن بنے ہوئے ہیں اور اس بات کو خوب سمجھ لو کہ اس سے مراد دوزخ ہے۔ اسی میں ان کفر کے سرغنوں کے گھر ہوں گے جن میں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ یہ سزا ان کو اس جرم میں ملے گی کہ وہ برابر اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہے۔ نہ خود ان کی طرف توجہ کی اور نہ دوسروں کو ان کی طرف متوجہ ہونے دیا۔