تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 31
نَحْنُ اَوْلِیٰٓؤُكُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَؕ﴿31﴾
- نَحْنُہم
- اَوْلِيٰٓؤُكُمْتمہارے رفیق
- فِي الْحَيٰوةِزندگی میں
- الدُّنْيَادنیا
- وَفِي الْاٰخِرَةِ ۚاور آخرت میں
- وَلَكُمْاور تمہارے لئے
- فِيْهَااس میں
- مَا تَشْتَهِيْٓجو چاہیں
- اَنْفُسُكُمْتمہارے دل
- وَلَكُمْاور تمہارے لئے
- فِيْهَااس میں
- مَا تَدَّعُوْنَجو تم مانگو گے
Translation · Tadabbur-e-Quran
ہم دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی رہے اور آخرت کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں۔ اور تم کو اس جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جس کو تمہارا دل چاہے گا اور تمہارے لئے اس میں ہر وہ چیز ہے جو تم طلب کرو گے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
نحن اولیآء کم فی الحیوۃ الدنیا و فی الاخرۃ ولکم فیھا ماتشتھی انفسکم ولکم فیھا ماتدعون (31)
اہل امیان کو اس دنیا میں بھی فرشتوں کی میت حاصل ہوتی ہے
یعنی کفار کے ساتھی تو شیاطین جن و انس بنے رہے اور انہوں نے بالآخر جہنم کے گھاٹ پر ان کو لا اتارا لیکن آپ کے ساتھی دنیا میں بھی ہم رہے ہیں اور آخرت میں بھی ہم آپ کے ساتھی ہیں۔ اب جو جنت آپ لوگوں کو ملنے والی ہے اس میں آپ کے لئے وہ سب کچھ ہے جن کو آپ کا جی چاہے گا اور مزید وہ چیزیں بھی آپ کو ملیں گی جو آپ طلب کریں گے۔ یہ امر یہاں واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے اس دنیا میں بھی اہل ایمان کے ساتھ رہتے ہیں۔ وہ ان کو نیکی کی راہ میں سجھاتے ہیں اور اس راہ میں جو مشکلیں پیش آتی ہیں ان میں ہمت بھی بند ھاتے ہیں۔ ان کی مدد سے انسان اسی وقت محروم ہوتا ہے جب وہ ان کی رہنمائی و حوصلہ افزائی کی قدر کرنے کے بجائے اپنی باگ کلیتہ شیطان کے ہاتھ میں پکڑا دیتا ہے۔ فرشتوں کی مدد و معیت پر سورة انفال کی تفسیر میں ہم وضاحت سے لکھ چکے ہیں۔