Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 45

  1. وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ﴿45﴾

    1. وَلَقَدْ اٰتَيْنَااور تحقیق ہم نے دی
    2. مُوْسَىموسیٰ
    3. الْكِتٰبَکتاب
    4. فَاخْتُلِفَتو اختلاف کیا
    5. فِيْهِ ۭاس میں
    6. وَلَوْلَااور اگر نہ ہوتی
    7. كَلِمَةٌایک بات
    8. سَبَقَتْپہلے ٹھہر چکی
    9. مِنْسے
    10. رَّبِّكَآپ کا رب
    11. لَقُضِيَتو فیصلہ ہوچکا ہوتا
    12. بَيْنَهُمْ ۭان کے درمیان
    13. وَاِنَّهُمْاور بیشک وہ
    14. لَفِيْ شَكٍّضرور شک میں
    15. مِّنْهُاس سے
    16. مُرِيْبٍتردد میں ڈالنے والے شک میں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم نے موسیٰ کو بھی کتاب عطا کی تھی تو اس میں اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ چکی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ لوگ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈال دینے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولقد اتینا موسیٰ الکتب فاختلف فیہ ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم وانھم لفی شک منہ قریب 45 یہود کا اللہ تو کیا ہوا، ایک اور اعتراض اور اس کا جواب یہ آیت بعینہ سورة ہود میں بھی گزر چکی ہے، ملاحظہ ہو آیت 110 وہاں ہم اس کی تفسیر کرچکے ہیں۔ یہ بھی درحقیقت اسی طرح کے اعتراض کا جواب ہے جس طرح کے اعتراض کا جواب اوپر والی آیت میں دیا گیا ہے یہود، یہ اعتراض بھی لوگوں کو سکھاتے تھے کہ جب تورات، اللہ کی کتاب موجود ہے اور اس کا کتاب الٰہی ہونا قرآن کو بھی تسلیم ہے تو آخر ایک نئی کتاب نازل کرنے کی کیوں ضرورت پیش آئی ؟ اس اعتراض کا جواب قرآن نے مختلف پہلوئوں سے دیا جو مختلف سورتوں میں مذکور ہے۔ یہاں یہ جواب دیا ہے کہ یہ تو امر واقعہ ہے کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا فرمائی لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ اس میں اختلاف اور تناقص پیدا کردیا گیا۔ فاختلف فیہ سے مراد یہاں وہ تناقص ہے جو مختلف اسفار تورات میں بہت بھونڈے طور پر پایا جاتا ہے۔ اگر کسی چیز میں محض تاویل کا اختلاف ہو تو اس کا ازالہ اصل کی مراجعت اور دوسرے شواہد و نظائر سے ممکن ہے لیکن جب اصل ہی میں کھلا ہوا تضاد و تناقص ہو تو پھر اس اختلاف کا ازالہ ناممکن ہے چناچہ یہ واقعہ ہے کہ تورات کے مختلف حصوں میں ایک ہی بات اتنے متضاد طریقوں سے بیان ہوئی ہے کہ اصل حقیقت تک پہنچنا نہایت دشوار بلکہ ناممکن ہے۔ ہماری اس کتاب میں تورات کے تضادات کی متعدد مثالیں گزر چکی ہیں۔ یہاں ہم اس کے صرف اس تضاد بیان کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو نبی امی ﷺ کی بعثت کی پیشین گوئیوں سے متعلق تورات میں پایا جاتا ہے۔ اگر یہود نے تحریفک کی راہ سے یہ تضاد نہ پیدا کردیئے ہوتے تو ان کو اس حقیقت کے سمجھنے میں ذرا بھی دشواری نہ پیش آتی کہ تورات کے بعد قرآن کو اللہ تعالیٰ نے کیوں نازل فرمایا اور حضرت موسیٰ ؑ کے بعد حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت دین کی کون سی کمی پوری کرنے کے لئے ہوئی لیکن یہود نے اپنی بدبختی سے حقیقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی اور اس طرح انہوں نے صرف اپنی ہی گمراہی کا سامان نہیں کیا بلکہ ایک خلق کثیر کی گمراہی کا وبال بھی اپنے سر لیا۔ تورات میں اس طرح کے تضادات کے پیدا ہونے کی وجہ کی طرف ہم پیچھے اشارہ کرچکے ہیں کہ حفاظت کا وہ اہتمام اس کو حاصل نہ ہوسکا جو قرآن کو حاصل ہوا۔ اس پر متعدد بار ایسی آفتیں آئیں کہ پوری تورات ناپید ہوگئی۔ بعد میں جن لوگوں نے اس کو مرتب کیا محض اپنی یادداشت سے مترب کیا اور یہ بھی نہیں معلوم کہ اس کے مرتب کرنے والے کون اور کن صفات کے وگ تھے۔ اس کے بعض صحیفے بالکل صیغہ راز میں رکھے جاتے تھے جن کے مندرجات سے خاص محرمان راز کے سوا دوسرے لوگ واقف نہیں ہو سکتے تھے اس لئے کہ ان میں ایسی باتیں جن کی عام اشاعت علمائے یہود اپنے مصالح کے خلاف سمجھتے تھے۔ اس طرح کی باتوں میں انہوں نے اپنے حسب منشا تحریفات بھی کیں اور وہ اس تحریف میں کامیاب ہوگئے۔ کسی ایسی کتاب میں تناقضات کا پیدا ہوجانا ذرا بھی تعجب انگیز نہیں ہے اور ان تناقضات کا بالکل بدیہی اور لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اصل حقیقت بالکل گم ہوجائے، لوگ اسی تاریک میں پھر گھر جائیں جس سے نکالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ روشنی نازل فرمائی تھی اور ان کے درمیان ایسے اختلافات پیدا ہوجائیں جن کے دور کرنے کی کوئی سبیل باقی ہی نہ ہر جائے۔ ایک سخت دھمکی ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم یہ نایت سخت دھمکی ہے اور چونکہ یہ اعتراض جیسا کہ ہم نے اوپر اشارہ کیا یہود کا سکھایا ہوا تھا، اس وجہ سے دھمکی بھی انہی کی طرف اشارہ کر کے دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہود ابھی تک اپنے آپ کو تورات کا حامل سمجھے ہوئے بیٹھے اور اس خبط میں مبتلا ہیں کہ تورات کی بدولت جو امامت و عیادت ان کو حاصل ہوئی تھی وہ بدستوران کو حاصل ہے، اس کو کوئی چیلنج نہیں کرسکتا۔ حالانکہ اللہ کی کتاب کے ساتھ جو ظلم وہ کرچکے ہیں اس کے بعد وہ مستحق تو تھے کہ اللہ کی عدالت اور اس کے عذاب کے ذریعہ سے ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا لیکن اللہ تعالیٰ نے ہر امت کے فیصلہ کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے اس وجہ سے ان کو مہلت دی گئی لیکن یہ مہلت بہرحال مہلت ہے جو ایک دن پوری ہوجائے گی اور یہ اپنے اس ظلم کا مزا چکھیں گے۔ تورات میں اختلافات کا نتیجہ وانھم لفی شک منہ مریب یہ نتیجہ بیان ہوا ہے اس اختلاف و تناقض کا جو تورات میں پیدا کردیا گیا۔ ظاہر ہے کہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ تورات کی ہر چیز خود اہل تورات کی نگاہوں میں مشکوک ہوگئی جس سے حق و باطل کا امتیاز ناممکن ہوگیا۔ ان کے اندر بیشمار فرقے پیدا ہوگئے اور ہر فرقے نے جو بات اپنی خواہش کے مطابق پائی اسی کو اپنا دین بنا لیا اور اصل دین ان تناقضات کے اندر گم ہوگیا۔ امام رازی کے نزدیک منہ میں ضمیر کا مرجع قرآن ہے لیکن میرے نزدیک اس کا مرجع تورات ہی ہے اور اس کے مشکوک ہونے کا پہلو وہی ہے جس کا ذکر اوپر گزر چکا ہے۔ یہ مضمون آگے سورة شوریٰ میں بھی آئے گا۔ وہاں اس آیت کے بعض اجمالات کی وضاحت ہوجائے گی۔ الشوری میں یہ مضمون یوں بیان ہوا ہے۔ وما تفرقوا الا من بعدما جآء ھم العلم بغیا بینھم ولولا کلمت سبقت من ربک الی اجل مسمی لقضی بینھم وان الذین اور ثوا الکتب من بعدھم لفی شک منہ مریب (الشوریٰ :14) اور یہ لوگ محض باہمی ضدم ضدا کے باعث متفرق ہوئے بعد اس کے کہ ان کے پاس علم آچکا تھا اور اگر تیرے رب کی طرف سے ایک بات پہلے طے نہ ہوچکی ہوتی، ایک مدت معین کے لئے تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے الجھن میں ڈال دینے والے شک میں مبتلا ہیں۔