Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 41. Fussilat · Ayah 46

  1. مَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِنَفْسِهٖ وَ مَنْ اَسَآءَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِ﴿46﴾

    1. مَنْ عَمِلَجس نے عمل کیا
    2. صَالِحًااچھے
    3. فَلِنَفْسِهٖتو اپنی ذات کیلئے
    4. وَمَنْ اَسَآءَاور جسنے بُرائی کی
    5. فَعَلَيْهَا ۭتو اس پر (ا سکا وبال)
    6. وَمَا رَبُّكَاور نہیں آپ کا رب
    7. بِظَلَّامٍمطلق ظلم کرنے والا
    8. لِّلْعَبِيْدِاپنے بندوں پر
Translation · Tadabbur-e-Quran
جو نیک عمل کرے گا تو اپنے ہی لیے کرے گا اور جو برائی کرے گا تو اس کا وبال اسی پر آئے گا اور تیرا رب بندں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
من عمل صالحاً فلنفسہ ومن اسآء فعلیھا وما ربک بظلام للعبید (46) مخالفین سے بےپروائی کا اعلان یہ ان لوگوں سے پروائی کا اظہار ہے۔ فرمایا کہ نہ کسی کی نیکی سے خدا کو کوئی نفع پہنچنے والا ہے اور نہ کسی کی بدی سے اس کا کوئی نقصان ہے۔ جو نیکی کرے گا اس کا فائدہ اسی کو حاصل ہوگا اور جو برائی کرے گا اس کا وبال اسی پر آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی اپنے بندوں پر ظلم کرنے الا نہیں ہے۔ جس کے جو اعمال ہوں گے اسی کے ثمرات و نتائج وہ اس کے سامنے رکھ دے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو راہ راست دکھانے کی یہ سرگرمی جو ہے اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ لوگوں کی ہدایت کے بغیر خدا کا کوئی کام اٹکا ہوا ہے بلکہ یہ ساری بھاگ دوڑ لوگوں ہی کی بھلائی کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ نہیں چاہتا کہ لوگ خدا کی پکڑ میں آئیں درآنحالیکہ ان پر اچھی طرح حجت تمام نہ ہوئی۔ سورة جاثیہ کی آیت 15 میں بھی یہ مضمن بالکل اسی سیاق وسباق میں آیا ہے۔ عربیت کا ایک اسلوب عربیت کے اس اسلوب کی وضاحت ہم دوسرے محل میں کرچکے ہیں کہ جب مبالغہ پر نفی آئے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے اس وجہ سے وما ربک بظلام للعید کے معنی ہوں گے : اور تیرا رب بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہے۔