تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ﴿20﴾
- مَنْ كَانَجو کوئی ہے
- يُرِيْدُارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے
- حَرْثَ الْاٰخِرَةِآخرت کی کھیتی کا
- نَزِدْ لَهٗہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے
- فِيْ حَرْثِهٖاس کی کھیتی میں
- وَمَنْاور جو کوئی
- كَانَہے
- يُرِيْدُارادہ رکھتا
- حَرْثَ الدُّنْيَادنیا کی کھیتی کا
- نُؤْتِهٖ مِنْهَاہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے
- وَمَا لَهٗاور نہیں اس کے لیے
- فِيمیں
- الْاٰخِرَةِآخرت (میں)
- مِنْ نَّصِيْبٍکوئی حصہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جو آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کی کھیتی میں افزونی دیتے ہیں۔ (اور دنیا میں سے بھی اس کا حصہ دیتے ہیں) او جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کو اس میں سے کچھ دیتے ہیں اور آحرت میں اس کے لئے کوئی حصہ نہیں
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
من کان یرسید حرت الاخرۃ نزدلہ فی حرثہ ومن کان یرید حرث الدین نوتہ منھا ومالہ فی الاخرۃ من نصیب (20)
یہ اسی سنت الٰہی کی مزید وضاحت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یو قاعدہ نہیں ہے کہ وہ اپنے رزق و فضل سے انہی کو نوازے جو اس کی بندگی کرنے والے ہوں بلکہ نیکو کاروں اور بدکاروں دونوں کو وہ روزی دیتا ہے البتہ جو لوگ آخرت کی کھیتی کرتے ہیں اللہ ان کی آخرت کی کھیتی میں بھی برکت دیتا ہے اور اس دنیا کے رزق و فضل میں سے بھی جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے۔ رہے وہ لوگ جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں، آخرت کی پروا انہیں نہیں ہوتی تو اللہ ان کو بھی اتنا دے دیتا ہے جتنا اس کی حکمت کا تقاضا ہوتا ہے۔ البتہ آخرت میں ان کا کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
نزدلہ فی حرثہ کے بعد نوتہ من الدین کے الفاظ بربنائے قرینہ محذوف ہیں۔ تقابل اس حذف پر دلیل ہے اس لئے کہ دوسرے ٹکڑے میں نوتہ منھا کے الفاظ موجود ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں یہ مضمون اس طرح بیان ہوا ہے۔
من کان یرید العاجلۃ عجلنا لہ فیھا مانشآء لمن نرید تم جعلنا لہ جھنم یصلھا مذموماً مدحوراً ومن ارادالاخرۃ و سعی لھا سعیھا وھو مومن فاولئک کان سعیھم مشکوراً کلا نمد ھولاء وھولآء من عطاء ربک ومان کان عطآء ربک محظوراً (بنی اسرائیل 20-18)
جو دنیا ہی کے طالب ہوتے ہیں ہم ان کو اسی دنیا میں دے دیتے ہیں جو چاہتے ہیں اور جن کے لئے چاہتے ہیں۔ پھر ہم نے ان کے لئے جہنم تیار کر رکھی ہے جس میں وہ مذموم و مطر ود ہو کر داخل ہوں گے اور جو آخرت کے طالب ہوتے ہیں اور اس کے شایان شان جدوجہد کرتے ہیں اور وہ مومن بھی ہیں تو دراصل وہ ہیں جن کی سعی مشکور و مقبول ہوگی۔ تیرے رب کی بخشش سے ہم ان کی بھی مدد کرتے ہیں اور ان کی بھی اور تیرے رب کی بخشش کا دروازہ کسی پر بھی بند نہیں ہے۔