Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 28

  1. وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ﴿28﴾

    1. وَهُوَ الَّذِيْاور وہ اللہ وہ ذات ہے
    2. يُنَزِّلُجو اتارتا ہے
    3. الْغَيْثَبارش کو
    4. مِنْۢ بَعْدِ مَااس کے بعد کہ
    5. قَنَطُوْاوہ مایوس ہوگئے
    6. وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗاور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو
    7. وَهُوَاور وہ
    8. الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُکارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور وہی ہے جو اتارتا ہے بارش بعد اس کے کہ لوگ مایوس ہوچکے ہوتے ہیں اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی حقیقی کار ساز اور ستو وہ صفات ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وھو الذین ینزل الغیث من بعد ما قنطوا وینشر رحمتہ ط وھو الولی الحمید 28 اوپر کی بات پر دلیل یہ دلیل ہے اس بات کی جواد پر ارشاد ہوئی ہے کہ اللہ ہی اپنے ادنازے کے مطابق بندوں کے لئے رزق اتارتا ہے، نہ بندوں کو اس معاملے میں کچھ اختیار ہے نہ اس کے مزعومہ شرکاء کو فرمایا کہ اللہ ہی اتارتا ہے بارش بعد اس کے کہ لوگ بالکل مایوس ہوجاتے ہیں۔ بارش کا ذکر خاص طور پر اس وجہ سے فرمایا کہ معاش کا تمام تر انحصار اسی پر ہے۔ اور من بعد ما قنطوا سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ ان تمام لوگوں کو جن کو اپنی تدبیر، اپنے استحقاق، اپنے وسائل و ذرائع اور اپنے شرکاء و شفعاء پر ناز ہے، اچھی طرح اندازہ ہوجاتا ہے کہ آسمان کے بند دریچوں کو کھولنا اس کے خالق کے سوا کسی کے بس میں نہیں ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی یہ شان اسی لئے وقتاً فوقتاً دکھاتا رہتا ہے کہ کوئی اس غرے میں نہ مبتلا ہو کہ رزق و فضل کسی کی میراث ہے یا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور اس کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ وھوا لولی الحمید یہ خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ آئے دن کا یہ مشاہدہ اس بات کی دلیل ہے کہ کار ساز حقیقی صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور وہ حمید ینی ستودہ صفات اور تمام سزا وار حمد و شکر کاموں کا منبع ہے۔ اس حیات چند روزہ میں وہ ان لوگوں کو بھی اپنے رزق سے محروم نہیں کرتا جو اسی کے رزق پر پلتے اور اسی کو چیلنج کرتے ہیں۔