Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 29

  1. وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ع﴿29﴾

    1. وَمِنْ اٰيٰتِهٖاور اس کی نشانیوں میں سے ہے
    2. خَلْقُ السَّمٰوٰتِپیدائش آسمانوں کی
    3. وَالْاَرْضِاور زمین کی
    4. وَمَااور جو بھی
    5. بَثَّ فِيْهِمَااس نے پھیلا دیے ان دونوں میں
    6. مِنْ دَآبَّةٍجانوروں میں سے
    7. ۭ وَهُوَاور وہ
    8. عَلٰيپر
    9. جَمْعِهِمْان کے جمع کرنے (پر)
    10. اِذَا يَشَآءُجب بھی وہ چاہے ۔ چاہتا ہے
    11. قَدِيْرٌقدرت رکھنے والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کیا جانا اور جو اس نے ان کے درمیان جانور پھیلائے ہیں اور وہ ان کے جمع کرنے پر بھی، جب وہ ان کو جمع کرنا چاہے گا قادر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن ایتہ خلق السموت والارض وما بث فیھما من دآبۃ وھو علی جمھم اذا یشآء قدیر (29) ایک اور مغالطے کی اصلاح یعنی کسی کو یہ مغالطہ بھی نہیں ہونا چاہئے کہ ان کو عذاب و قیامت سے جو ڈرایا جا رہا ہے یہ محض ڈھم کی ہے جس خدا نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ لوگوں کو دوبارہ پیدا کرنے پر بدرجہ اولی قادر ہے۔ یہ وہی دلیل ہے جو دوسرے مقام میں یوں ارشاد ہوئی، انتم اشد خلقا ام السمآء بنھا (النزعت :37) (کیا تمہارا پیدا کرتا زیادہ مشکل ہے۔ یا اس آسمان کا جس کو بلند کیا۔) لفظ دآبۃ زمین کی جاندار چیزوں کے لئے آتا ہے اس وجہ سے ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ کیا آسمانوں میں بھی اس طرح کی کوئی مخلوق پائی جاتی ہے جس پر دآبۃ کا اطلاق ہو سکے ؟ اگر ایسا نہیں ہے تو یہاں وما بث فیھا من دآبۃ میں مثنیٰ کی ضمیر استعمال ہوئی ؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ لفظ سمار، جس طرح آسمان کے لئے آتا ہے اسی طرح اس فضا کے لئے بھی آتا ہے جس میں پرندے پرواز کرتے ہیں۔ اس آیت میں بث اور جمع کا تقابل بھی نہایت بلیغ اور قیامت کی ایک نہایت دلنشین دلیل ہے بث کے معنی چھنٹنے بکھیرنے اور پھیلانے کے ہیں اور جمع کے معنی اکٹھا کرنے اور سمیٹنے کے اس سے یہ اشارہ نکلا کہ جس نے زمین اور فضا میں یہ تمام جادنار پھیلائے ہیں وہ ان کو جب چاہے گا جمع کرنے پر بھی قادر ہے۔ جب وہ بکھیرنے پر قادر ہوا تو ان کو سمیٹنے سے کیوں قاضر رہے گا۔ جو کا سن اپنے کھیت میں تخم ریزی کرتا ہے وہ ضائع کرنے کے لئے تخم نہیں بکھیرتا بلکہ وہ اس کا حاصل ایک دن جمع بھی کرتا ہے اور اس میں اس کا کوئی زحمت نہیں پیش آتی۔