تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 32
وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ﴿32﴾
- وَمِنْ اٰيٰتِهِاور اس کی نشانیوں میں سے ہیں
- الْجَوَارِکشتیاں
- فِي الْبَحْرِسمندر میں
- كَالْاَعْلَامِپہاڑوں کی طرح
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہیں سمندروں میں چلنے والے، پہاڑوں کے مانند، جہاز
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ومن ایتہ الجوار فی البحر کا لاعلام ان یشا یسکن الریع فیظلن رواکد علی ظہرہ ط ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور، ویوبضھن بما کسبوا ویعف عن کثیرہ ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا ط مالھم من محیص (35-32)
دنیا کی کامیابی پر مفروروں کے لئے ایک تمثیل
یہ ان لوگوں کے سامنے ایک مثال پیش کی ہے جو اپنی دنیوی کامیابیوں پر مگن ہیں کہ اس دنیا کی زندگی کو کشتی کے سفر کی مانند سمجھو۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت کا کرشمہ ہے کہ پہاڑوں کے مانند بھاری بھاری جہازات سمندر کے سینہ پر دوڑتے پھرتے ہیں۔ جن لوگوں کی نظر خدا کی قدرت پر نہیں ہوتی وہ جب جہاز کو رواں داں دیکھتے ہیں تو مگن ہو کر یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ اس کو کوئی خطرہ بھلا کہاں سے اور کس طرح پیش آسکتا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو روک دے اور یہ جہازات اپنے مسافروں سمیت سطح سمندر پر ہی پڑے رہ جائیں یا ان کو ان کے مسافروں سمیت ان کی جگہ ہی پر غرق کر دے اور کوئی ان کو بچانے والا نہ بنے۔ اس تمثیل میں اگرچہ پیش نظر باد بانی جہازات ہیں اس لئے کہ اس وقت تک باد بانی جہازات ہی وجود میں آئے تھے لیکن ٹھیک ٹھیک یہی تمثیل آج کے ترقی یافتہ جہازوں پر بھی منطبق ہوتی ہے۔ آج سائنس کی ترقیوں نے انسان کو اسٹیم، بجلی اور ایٹم کو کنٹرول کرنے کا سل یقہ سکھا دیا ہے جس سے اس کی طاقت میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے لیکن آج بھی ہم آئے دن بڑے بڑے بحری جہازوں کے متعلق اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے وہ بتاشہ کی طرح پانی میں بیٹھ جاتے ہیں، یا ان کی ساری مشینری اس طرح معطل ہوجاتی ہے کہ ایک لاشہ بےجان کی طرح ان ان فی ذلک لایت تکل صبار شکون یہ اس سبق کی طرف اشارہ ہے جو اس تمثیل میں مضمر ہے۔ فرمایا کہ اس میں ان لوگوں کے لئے بڑی عبرتیں پوشیدہ ہیں جو صبر کرنے والے اور شکر کرنے والے ہیں۔ یعنی جو لوگ زندگی کے حالات و واقعات پر سنجیدگی سے غور کرتے ہیں وہ اس سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اگر کسی کو ناساز گار حالات پیش آئیں تو اس کو مایوس و دل شکستہ نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنے رب کے بھروسے پر صبر کرنا چاہئے۔ اس دنیا میں انسان کو جو کچھ پیش آتا ہے خدا کے حکم ہی سے پیش آتا ہے اور خدا کا کوئی کام بھی حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس طرح اگر کسی کو سازگار حالات میسر آئیں تو اس کو اترانے اور فخر کرنے والا نہیں بن جانا چاہئے بلکہ اپنے رب کا برابر شک گزار رہنا چاہئے اس لئے کہ بندے کو جو کچھ بھی ملتا ہے خدا ہی کے دیے ملتا ہے اور وہ جس طرح دینے پر قادر ہے اسی طرح چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ جو لوگ اس حقیقت ہے نا آشنا ہوتے ہیں ان کو نعمت مغرور اور مصیبت مایوس بناتی ہے وہ کبھی ایمان کی حلاوت سے آشنا نہیں ہوتے۔ آگے اسی سورة میں اس طرح کے لوگوں کا ذکر ان الفاظ میں ہوا ہے۔ وانا اذا اذقنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا وان تبھم سیۃ بما قدمت ایدیھم فان الانسان کفور (48 (اور جب ہم انسان کو اپنے کسی فضل سے نوازتے ہیں تو وہ اس پر اتراتا ہے اور اگر اس کو اس کے اعمال کی پاداش میں کوئی مصیبت پہنچ جائے تو ناشکرا بن جاتا ہے۔
اویوبقھن بما کسبوا ویعض عن کثیر اس کا عطف اوپر والے جملے ان یشایسکن الریح پر ہے۔ ان فی ذلک … الآیۃ والافقرہ بیچ میں، بطور جملہ معترضہ اس تمثیل کے مقصد کی طرف توجہ دلانے کے لئے آگیا ہے۔ جملہ معترضہ کے بعد بات پوری کردی گئی کہ جس طرح وہ قادر ہے کہ ہوا کو روک کر جہازوں کو سطح سمندر ہی پر ساکن کر دے اسی طرح وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ ان کو ان کے مسافروں کے اعمال کی پداش میں غرق کر دے اور چاہے تو ان میں سے بہتوں کے گناہوں سے درگزر فرمائے اور وہ بھنور سے نکل کر بخیریت ساحل پر پہنچ جائیں۔ ان تینوں میں سے ہر بات اس کے اختیار میں ہے اس وجہ سے اس دنیا میں کسی کے لئے اپنی کسی کامیابی پر مغرور ہونا جائز نہیں ہے بلکہ کامیابی حاصل ہو تو اپنے رب کا شکر گزار ہونا چاہئے اور کوئی افتاد پیش آئے تو اس کو اپنی کسی کوتاہی کا نتجیہ سمجھ کر صبر کرنا چاہئے اور اللہ سے خیر کی امید رکھنی چاہئے۔
حذف کی ایک مثال
ویعلم الذین یجادلون فی آیتنا مالھم من معیص یہاں یعلم حالت نصب میں ہے اس وجہ سے اس کا معطوف علیہ محذوف ماننا پڑے گا۔ اس قسم کے حذف کی متعدد مثالیں پیچھے بھی گزر چکی ہیں اور آگے بھی آرہی ہیں، مثلاً وخلق اللہ السموت والارض بالحق ولتجزی کل نفس بما کسبت (الجاثیتہ : 2 ہ) (اور آسمانوں اور زمین کو اس نے غایت کے ساتھ پیدا کیا (تاکہ وہ ایک روز عدل لائے) ور تاکہ ہر جان کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے) اسی اصول پر یہاں کوئی مناسب تعلیل محذوف ماننی پڑے گی۔ گویا پوری بات یوں ہوگی کہ تاکہ اللہ ان سے انتقا ملے اور تاکہ آیات الٰہی میں کٹ حجتی کرنے والوں پر یہ حقیقت واضح ہوجائے کہ ان کے لئے خدا سے بھاگ سکنے کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
یہ مضمون قرآن میں جگہ جگہ مختلف اسلوبوں سے آیا ہے۔ ہم ایک نظیر سورة یونس سے پیش کرتے ہیں فرمایا ہے۔
ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر، حتی اذا کنتم فی الفلک وجرین بھم بربج طیبۃ دفوحوا بھا جاء تھا ریج عاصف وجآء ھم الموج من کل مکان و ظنوا انھم احیط بھم لا دعو اللہ مخلصین لہ الدین لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین، فلما انجھم اذا ھم یبغون فی الارض بغیر الحق، ط یا یھا الناس انما بعیکم علی انفسکم لا متاع الحیوۃ الدنیا تم الینا مر جعکم فنبئکم بما کنتم تعملون (یونس :23-22)
وہی ہے جو تم کو سفر کراتا ہے خشکی اور تری میں۔
یہاں تک کہ جب تم کشتویں میں ہوتے ہو اور وہ سازگار ہوائوں سے چلتی ہیں اور وہ مگن ہوتے ہیں، آپڑتی ہے ان پر باد تند اور اٹھنے لگتی ہیں ان پر موجیں ہر جانب سے اور وہ گمان کرتے ہیں کہ اب ہلاک ہوئے۔ اس وقت وہ اللہ کو پکارتے ہیں، اسی کی خالص اطاعت کا عہد کرتے ہوئے کہ اگر تو نے ہمیں اس ورطہ ہلاکت سے نجات بخشی تو ہم تیرے شکر گزار بندے بن کے رہیں گے۔ پس جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے وہ پھر زمین میں بلا کسی حق کے سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ اے لوگو ! تمہاری سرکشی کا وبال تمہارے ہی اوپر پڑنے والا ہے۔ اس دنیا کی چند روزہ متاع سے فائدہ اٹھا لو۔ پھر ہم تکو بتائیں گے جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔