Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 36

  1. فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ﴿36﴾

    1. فَمَآ اُوْتِيْتُمْپس جو بھی دیے گئے تم
    2. مِّنْ شَيْءٍکوئی چیز
    3. فَمَتَاعُتو سامان ہے
    4. الْحَيٰوةِ الدُّنْيَادنیا کی زندگی کا
    5. وَمَا عِنْدَ اللّٰهِاور جو اللہ کے پاس ہے
    6. خَيْرٌبہتر ہے
    7. وَّاَبْقٰىاور زیادہ باقی رہنے والا ہے
    8. لِلَّذِيْنَان لوگوں کے لیے
    9. اٰمَنُوْاجو ایمان لائے
    10. وَعَلٰي رَبِّهِمْاور اپنے رب پر
    11. يَتَوَكَّلُوْنَوہ توکل کرتے ہیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس جو کچھ بھی تمہیں ملا ہے وہ دنیوی زندگی کی متاع حقیر ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے کہیں بہتر او پائیدار ہے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے اور اللہ پر بھروسہ رکھتے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فما اوتیتم من شیء ممتاع الحیوۃ الدینا وما عند اللہ خیر وا بقی للذین امنوا وعلی ربھم یتوکلون (36) خلاصہ بحث یہ آخر میں اوپر والی بحث کا خلاصہ سامنے رکھ دیا ہے کہ یہ دنیا کی جو نعمتیں تمہیں ملی ہیں، اترانے اور فخر کرنے کی چیزیں نہیں ہیں بلکہ یہ اس حیات چند روزہ کی متاع ہیں۔ ایک دن بالآخر یہ زندگی بھی ختم ہوجائے گی اور اس کا یہ سرور سامان بھی۔ البتہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ ہے وہ اس سے کہیں بہتر اور ابدی ہے جو ان لوگوں کا حصہ ہے جو ایمان لائے اور اپنے رب پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اگر حوصلہ ہے تو اس کے چاہنے والے بنو۔ اس دنیا کی متاع حقیر کے پیچھے کیوں اپنی عاقبت برباد کر رہے ہو۔ یہاں وعلی ربھم یتوکلون کے الفاظ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ اس حقیت کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ جو لوگ آخرت کی ابدی بادشاہی کے طالب ہوں ان کے لئے اس راہ میں اصلی زاد راہ توکل ہے۔ جب تک کسی کے اندر یہ حوصلہ نہ ہو کہ اس دنیا کی جو چیزیں خدا کی راہ میں مزاحم ہوں ان کو خدا کے بھروسہ اور آخرت کے صلہ کے اعتماد پر طلاق دے سکے اس وقت تک کوئی شخص یہ ابدی بادشاہی حاصل نہیں کرسکتا۔