تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 4
لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ﴿4﴾
- لَهٗاس کے لیے ہی ہے
- مَا فِي السَّمٰوٰتِجو کچھ آسمانوں میں ہے
- وَمَا فِي الْاَرْضِاور جو کچھ زمین میں ہے
- وَهُوَ الْعَلِيُّاور وہ بلند ہے
- الْعَظِيْمُبہت بڑا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اسی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور جو کچھ زمین میں ہے اور وہ بڑی ہی بلند اور عظیم ہستی ہے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
لہ ما فی السموت وما فی الارض ط وھو العلی العظیم (4)
صفت، عزیز، ی کی وضاحت
یہ اللہ تعالیٰ کی صفت عزیز کی وضاحت ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کی ملکیت اور اسی کے قبضہ قدرت میں ہے نہ کسی چیز میں کسی کا ساجھا ہے اور نہ کوئی چیز اس کے حیطہ اقتدار و اختیار سے باہر ہے۔ وہ بڑی ہی بلند اور بڑی ہی عظیم ہستی ہے، کسی کا بھی یہ درجہ نہیں کہ اس کا کفو اور ہمسر ہو سکے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگوں کو مہلت دے رہا ہے تو اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ لوگ اس کے دائرہ اختیار سے باہر ہوگئے اور اگر اس نے کسی کو عزت و شوکت بخشی ہے تو اس کو اتنا مغرور نہیں ہونا چاہئے کہ ہو خد کو دیکھنے اور اس سے ہم کلام ہونے کا حوصلہ کر بیٹھے۔ اللہ کی بارگاہ بہت بلند اور اس کی ہستی بڑی عظیم ہے۔