تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ﴿41﴾
- وَلَمَنِ انْتَصَرَاور جو کوئی بدلہ لے
- بَعْدَبعد
- ظُلْمِهٖاس کے ظلم کے
- فَاُولٰٓئِكَتو یہی لوگ
- مَا عَلَيْهِمْنہیں ہے ان پر
- مِّنْ سَبِيْلٍکوئی راستہ
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور جنہوں نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیا تو ان کے اوپر کوئی الزام نہیں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ما علیھم من سبیل وانما السبیل عل الذین یظلمون الناس ویبغون فی الارض بغیر ط اولئک لھم عذاب الیم (42-41)
بعد ظلمہ میں مصدر اپنے مفعول کی طرف مضاف ہے جس طرح سورة روم کی آیت وھم من بعد غلبھم سیغلبون (3) ہے۔
ان لوگوں کے شبہ کا جواب جو انتقام کو دینداری کے خلاف سمجھتے ہیں
یہ ان لوگوں کے شبہ کا جواب ہے جو دینداری کا ایک تقاضا یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آدمی دوسروں کے ہاتھوں پٹتا رہے اور ان سے کوئی انتقام نہ لے۔ اگر کوئی اتنقام لے تو یہ چیز دینداری کے خلاف سمجھی جاتی ہے اور اس کو بھی برابر کا مجرم سمجھ لیا جاتا ہے۔ فرمایا کہ اس طرح کے معاملات میں الزام ان لوگوں پر نہیں ہے جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کئے جانے کے بعد اتنقام لیا بلکہ الزام ان لوگوں پر ہے جو دوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور بلا کسی استحقاق کے خدا کے زمین میں سرکشی اور طغیان کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
بغیر الحق، یعنی زمین کا خلاق اور مالک تو خدا ہے، ان کا کوئی دخل نہ اس کی تخلیق میں ہے نہ تدبیر میں۔ لیکن ان کا مطالبہ ہے کہ کوئی ان کے آگے سر اٹھا کے نہ چلے۔ فرمایا کہ اصل مجرم یہ لوگ ہیں اور ان کے لئے درد ناک عذاب ہے۔ اگر ان کے جواب میں مظلوموں کو بھی کوئی اقدام کرنا پڑے تو اس کی مسئولیت ان مظلوموں پر نہیں بلکہ ان ظالموں ہی پر ہے جنہوں نے اس کی طرح ڈالی۔ سورة مائدہ کی آیت الی ارید ان تبواء باثمی واثمہ (29) کے تحت ہم جو کچھ لکھ آئے ہیں اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔