Surah Introduction

تدبرِ قرآن

Tadabbur-e-Quran · 42. Ash-Shura · Ayah 9

  1. اَمِ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَ١ۚ فَاللّٰهُ هُوَ الْوَلِیُّ وَ هُوَ یُحْیِ الْمَوْتٰى١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ع﴿9﴾

    1. اَمِیا
    2. اتَّخَذُوْاانہوں نے بنا رکھا ہے
    3. مِنْ دُوْنِهٖٓاس کے سوا
    4. اَوْلِيَآءَکچھ سرپرست
    5. فَاللّٰهُپس اللہ تعالیٰ
    6. هُوَ الْوَلِيُّوہی سرپرست ہے
    7. وَهُوَاور وہ
    8. يُحْيِزندہ کرے گا
    9. الْمَوْتٰىمردوں کو
    10. وَهُوَاور وہ
    11. عَلٰي كُلِّ شَيْءٍہر چیز پر
    12. قَدِيْرٌقدرت والا ہے
Translation · Tadabbur-e-Quran
کیا ان لوگوں نے اس کے سوا دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں تو یاد رکھیں کہ کار ساز اللہ ہی ہے اور وہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ام اتخذوا من دونہ اولیآء فاللہ ھو الولی وھو یحییٰ الموتی ھو علی کل شیء قدیر (9) سوال یہاں اظہار تعجب اور انکار کے مفہوم میں ہے۔ اوپر والی آیت میں فرمایا ہے کہ ان کے لئے نہ کوئی کارساز ہوگا۔ نہ مددگار۔ یہ اسی کی مزید وضاحت ہے کہ اگر انہوں نے اللہ کے سوا کچھ دوسرے کار ساز بنا رکھے ہیں تو یہ محض ان کی بو الفضولی ہے۔ کار ساز صرف اللہ ہی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ وہی ہے جو مردوں کو زندہ کرے گا اور ہر ایک کی پیشی اس کے حضور میں ونی ہے تو کار ساز کوئی دوسرا کیسے بن جائے گا اور وہ ہر چیز پر قادر ہے تو اس کے ہوتے کسی کار ساز کی ضرورت کیا رہی اور اس کے آگے کسی بڑے سے بڑے کار ساز کی کار سازی کیا کارگر ہو سکتی ہے۔ فعا اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ، ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت والیہ انیب (10) ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ جو اپنی ضد پر اڑے ہوئے تھے اوپر آیت 88 میں نبی ﷺ کی یہ تسلی دی گی ہے کہ مخلافین کی ضد اور مکابرت سے آپ پریشان نہ ہوں۔ ہدایت و ضلالت کے باب میں اللہ نے جو سنت مقرر کر رکھی ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی یہ لوگ اللہ کے قانون کی زد میں آئے ہوئے ہیں اس وجہ سے ان کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے۔ اسی ہدایت کے بموجب نبی ﷺ نے ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حوالہ کیجیے اسی ہدایت کے بموجب نبی ﷺ نے ان لوگوں کا معاملہ اللہ کے حالہ فرما دیا چونکہ یہ بات اوپر والی آیت ہی کی تعمیل میں تھی اس وجہ سے اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نئی ہدایت کی ضرورت نہیں تھی بلکہ کہنے کی بات نبی ﷺ کی زبان سے کہلا دی گئی۔ فرمایا کہ اللہ کے بھیجے ہوئے دین کی جس بات میں بھی تم نے اختلاف کیا، خواہ وہ توحید ہو یا آخرت، میری ذمہ داری اس میں صرف حق پہنچا دینے کی تھی سورة میں نے تم کو پہنچا دیا۔ اب اس کا فیصلہ اللہ کے حوالہ ہے۔ وہ فیصلہ فرمائے گا کہ میں نے حق پہنچانے میں کوتاہی کی یا تم نے حق کو پہچان کر اس کو جھٹلایا ! وہی اللہ میرا رب ہے اس وجہ سے میں نے اس پر بھروسہ کیا اور میں اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں کہ وہ میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ فرمائے۔