تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 28
وَ جَعَلَهَا كَلِمَةًۢ بَاقِیَةً فِیْ عَقِبِهٖ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿28﴾
- وَجَعَلَهَااور اس نے بنادیا اس کو
- كَلِمَةًۢ بَاقِيَةًایک بات باقی رہنے والی
- فِيْمیں
- عَقِبِهٖاس کی اولاد میں۔ اس کے پیچھے
- لَعَلَّهُمْشاید کہ وہ
- يَرْجِعُوْنَوہ لوٹ آئیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اس کو اس نے ایک پائیدار روایت کی حیثیت سے چھوڑا اپنے اخلاف میں تاکہ لوگ اسی کی طرف رجوع کریں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وجعلھا کلمۃ باقیۃ فی عقبہ لعلھم یرجعون 28
ضمیر منصوب کا مرجع وہی اعلان برأت و ہجرت ہے جس کا ذکر اوپر گزرا۔ اس نوع کی ضمیریں پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہیں۔
اس اعلان برأت کی روایت اخلاف میں باق رہی
کلمۃ باقیۃ سے مراد پائیدار اور باقی رہنے والی روایت (Tradition) ہے۔ یعنی حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے قول و عمل اور اپنی تعلیم و تذکیر سے اپنے اس اعلان برأت ہجرت کو اپنی ذریت میں ایک مستحکم روایت کی حیثیت دے دی۔ اسلاف، اخلاف کو یہ روایت منتقلک رنے اور اس کو زندہ رکھنے کی برابر وصیت اور تاکید کرتے رہے۔ ذریت ابراہیم کی ایک شاخ یعنی اسرائیل میں اس کا چرچا ان کے صحیفوں اور ان کے اندر مبعوث ہونے والے انبیاء کی تعلیم و تذکیر سے قائم رہا۔ دوسری شاخ یعنی بنی اسماعیل میں چونکہ انبیاء نہیں مبعوث ہوئے اس وجہ سے اس کا چرچا کچھ مدت بعد کمزور پڑگیا تاہم اس کے اندر بھی ایک گروہ برابر ان لوگوں کا باقی رہا جو حضرت ابراہیم ؑ کے دین حنیفی کے پیرو، ان کی دعوت توحید کے حامل اور ان کی شرک بیزاری کی روایات کے امین رہے۔
لعلھم یرجعون یعنی یہ روایت انہوں نے اپنی ذریت میں اس لئے چھوڑی کہ ان کے لئے نشان راہ کا کام دیتی رہے۔ جب کبھی شیطان ان کو بھٹکانے لگے یا وہ بھٹک جائیں تو اس نشان کو دیکھ کر پھر صراط مستقیم کی طرف پلٹ سکیں۔