تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 31
وَ قَالُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ هٰذَا الْقُرْاٰنُ عَلٰى رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ﴿31﴾
- وَقَالُوْااور انہوں نے کہا
- لَوْلَا نُزِّلَکیوں نہیں نازل کیا گیا
- ھٰذَا الْقُرْاٰنُیہ قرآن
- عَلٰي رَجُلٍاوپر کسی شخص کے
- مِّنَسے
- الْقَرْيَتَيْنِدو بستیوں میں
- عَظِيْمٍعظمت والے ۔ بڑے
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور انہوں نے اعتراض اٹھایا کہ یہ قرآن دونوں بستیوں میں سے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں نازل کیا گیا ؟
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وقالوا لولا نزل ھذا القرآن علی رجل من القریتین عظیم (31)
عوام فریبی کے لئے ایک اور اشغلہ
قرآن اور نبی ﷺ سے اپنے عوام کو برگشتہ کرنے کے لئے یہ بات بھی قریش کے لیڈر کہتے کہ اگر یہ کتاب خدا کی نازل کی ہوئی ہے تو آخر یہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں نازل کی گئی ! من القریتین سے مراد مکہ اور طائف ہیں اس لئے کہ یہی دو بستیاں عرب کے سادات و اشراف کا مرکز تھیں۔ پشتہاپشت سے عرب کی سیادت و قیادت انہی لوگوں کو حاصل رہی تھی اس وجہ سے سادہ لوح عوام کو یہ بات آسانی سے باور کرائی جاسکتی تھی کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ کو اگر لوگوں کی رہنماء کے لئے کوئی چیز اتارنی ہی ہوتی تو وہ انہی دونوں بستیوں میں سے کسی رئیس ابن رئیس پر اتارتا، ان کو چھوڑ کر، وہ ایک ایسے شخص کا انتخبا کیوں کرتا جو ایک غریب ابن غریب ہے اور جس کی بات سننے کے لئے امراء مشکل ہی سے تیار ہو سکتے ہیں۔