تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 48
وَ مَا نُرِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ اِلَّا هِیَ اَكْبَرُ مِنْ اُخْتِهَا١٘ وَ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ﴿48﴾
- وَمَا نُرِيْهِمْاور نہیں ہم دکھاتے ان کو
- مِّنْ اٰيَةٍکوئی نشانی
- اِلَّا هِىَ اَكْبَرُمگر وہ زیادہ بڑی ہوتی تھی
- مِنْ اُخْتِهَااپنی بہن سے
- وَاَخَذْنٰهُمْاور پکڑ لیا ہم نے ان کو
- بِالْعَذَابِعذاب میں۔ ساتھ عذاب کے
- لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَتاکہ وہ لوٹ آئیں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے اور ہم نے ان کو عذاب میں پکڑا تاکہ وہ رجوع کریں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
وما نریھم من ایۃ الا ھی اکبر من اختھا واخذنھم با عذاب یعلھم یرجعون 48
نریھم سے پہلے فعل ناقص، زبان کے معروف قاعدے کے مطابق، محذوف ہے۔ یعنی ہم ان کو ایک سے ایک بڑھ کر نشانیاں دکھاتے رہے کہ وہ اللہ کی طرف رجوع کرنے والے ہیں۔ یہ ان نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو پہلی نشانیوں کی تکذیب کے بعد تنبیہی عذاب کے طور پر نازل ہوئیں، تاکہ فرعونیوں کو خدا کی پکڑ کا کچھ انداز ہوا اور وہ توبہ کی طرف مائل ہوں۔ یہ نشانیاں مختلف عذابوں کی شکل میں یکے بعد دیرگے ظاہر ہوئیں اور قدرتی طور پر ہر نشانی اپنی ماسبق سے زیادہ عبرت انگیز شکل میں نمایاں ہوئی۔ لیکن ان کے دلوں پر ایسی قساوت چھا چکی تھی کہ کوئی نشانی بھی کارگر نہ ہوسکی یہاں تک کہ وہ فیصلہ کن عذاب کی زد میں آگئے۔