تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 53
فَلَوْ لَاۤ اُلْقِیَ عَلَیْهِ اَسْوِرَةٌ مِّنْ ذَهَبٍ اَوْ جَآءَ مَعَهُ الْمَلٰٓئِكَةُ مُقْتَرِنِیْنَ﴿53﴾
- فَلَوْلَآتو کیوں نہیں
- اُلْقِيَاتارے گئے
- عَلَيْهِاس پر
- اَسْوِرَةٌکنگن
- مِّنْ ذَهَبٍسونے کے
- اَوْ جَآءَیا آئے
- مَعَهُاس کے ساتھ
- الْمَلٰٓئِكَةُفرشتے
- مُقْتَرِنِيْنَساتھ رہنے والے
Translation · Tadabbur-e-Quran
تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ اس کے لئے اوپر سے سونے کے کنگن اتارے گئے ہوتے یا اس کے ساتھ فرشتے پرے باندھے ہوئے آتے !
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
قلولاً القی علیہ اسورۃ من ذھب اوجآء معہ الملٓئکۃ مقترنین 53
یعنی اس کے زعم کے مطابق اگر کوئی خدا ہے اور اس نے اس کو رسول بنا کر بھیجا ہے تو ہونا یہ تھا کہ آسمان سے اس کی زینت کے لئے کنگن اتارے جاتے اور فرشتے پرے بنا بنا کر اس کے جلو میں چلتے لیکن یہ مدعی تو ہے خدا کے رسول ہونے کا اور اس کی کسمپرسی کا جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے۔ غور کرو کہ کوئی خدا کا رسول ہوگا تو وہ اس حال میں کیوں آئے گا !
یہ امر محلوظ رہے کہ اس عہد میں عام طور پر سلاطین، بالخصوص مصر اور ایران کے سلاطین، اظہار شان و شوکت کے لئے سونے کے کنگن پہنتے تھے اور فوجی دستوں کے جلو میں نکلنا تو جس طرح آج شکوہ خسروی کے اظہار کے لئے ضروری ہے اسی طرح اس زمانے میں بھی اس کا اہتمام تھا۔