تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 54
فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ﴿54﴾
- فَاسْتَخَفَّتو ہلکایا پایا اس نے
- قَوْمَهٗاپنی قوم کو
- فَاَطَاعُوْهُتو انہوں نے اطاعت کی اس کی
- اِنَّهُمْبیشک وہ
- كَانُوْاتھے وہ
- قَوْمًا فٰسِقِيْنَفاسق قوم۔ لوگ
Translation · Tadabbur-e-Quran
پس اس طرح اس نے اپنی قوم کو بیوقوف بنا لیا اور انہوں نے اس کی بات مان لی۔ یہ لوگ نافرمان قسم کے لوگ تھے۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
فاستنحف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوماً فسقین 54
استخف ضد ہے استثقل کا استثقال کے معنی کسی چیز کو بھاری بھرکم، وزن دار اور گراں سمجھنے کے ہیں اس وجہ سے استخفاف کے معنی کسی کو بےوزن، بےحقیقت اور بےحیثیت سمجھنے کے ہوں گے۔ استخف قومہ کا مطلب یہ ہوگا کہ اس نے اپنی قوم کو بالکل سادہ لوح پا کر اس کو پرفریب باتوں سے چٹکیوں میں اڑا دیا اور وہ بیوقوفوں کی طرح اس کے چکموں میں آگئی۔
انسان کے اندر وزن ایمان سے پیدا ہوتا ہے۔
انھم کانوا قوماً فسقین یعنی یہ لوگ خدا کے نافرمان اور اس کے ایمان سے محروم تھے اس وجہ سے بالکل بےوزن اور بےحقیقت تھے۔ اس طرح کے لوگ بڑی آسانی سے شیاطین کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور شیاطین ان کی ناکوں میں نکیل ڈال کر جدھر چاہتے ہیں لئے پھرتے ہیں۔ انسان کے اندر وزن اللہ تعالیٰکے تعلق سے پیدا ہوتا ہے۔ اگر یہ پاسنگ اس کے پلڑے میں نہ ہو تو اس کی حیثیت خس و خاشاک کی ہے۔ ہوا کا معمولی جھونکا بھی اس کو اڑا لے جاتا ہے۔