تدبرِ قرآن
Tadabbur-e-Quran · 43. Az-Zukhruf · Ayah 60
وَ لَوْ نَشَآءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَّلٰٓئِكَةً فِی الْاَرْضِ یَخْلُفُوْنَ﴿60﴾
- وَلَوْ نَشَآءُاور اگر ہم چاہیں
- لَجَعَلْنَاالبتہ ہم بنادیں
- مِنْكُمْتم سے
- مَّلٰٓئِكَةًفرشتوں کو
- فِيمیں
- الْاَرْضِزمین (میں)
- يَخْلُفُوْنَوہ جانشنین ہوں
Translation · Tadabbur-e-Quran
اور اگر ہم چاہیں تو تمہارے اندر سے فرشتے بنا دیں جو زمین میں خلافت کریں۔
Tafseer · Tadabbur-e-Quran
ولونشآء لجعلنا منکم ملٓئکۃ فی الارض یخلفون 60
مشرکین کے ایک مغالطہ کا ازالہ
اوپر مشرکین کا قول نقل ہوا ہے کہء ائھتنا خیر ام ھو (ہمارے معبود اچھے ہوئے یا وہ ؟) یہ اسی پر استدراک ہے کہ تم نے اگر مجرد اس بنیاد پر فرشتوں کو معبود بنایا ہے کہ ان کی خلقت ایک اعلیٰ عنصر (نور) سے ہوئی ہے تو یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو کسی کو معبود بنا دینے کی دلیل بن سکے۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حال تو یہ ہے کہ وہ جس طرح فرشتوں کو نور سے بنا سکتا ہے اسی طرح چاہے تو وہ خود تمہارے اندر سے فرشتوں کی صفات کے لوگ پیدا کر دے اور وہ زمین میں خلافت کا وہ فرض انجام دیں جو انسانوں کو سپرد ہوا ہے لیکن یہ بات اللہ تعالیٰکی حکمت کے خلاف ہے اس وجہ سے اس نے ایسا نہیں کیا۔ مطلب یہ ہے کہ مجرد کسی کا نور یا نار سے پیدا ہونا یا کسی کا بن باپ کے وجود میں آنا اس کے خدایا شریک خدا ہونے کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰکی قدرت میں یہ ساری باتیں ہیں اس وجہ سے مستحق عبادت وہی ہے جو اس ساری کائنات کا خالق ہے۔